خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 772

خطبات طاہر جلد ۱۲ 772 خطبه جمعه ۸ اکتوبر ۱۹۹۳ء لئے اس کا بھیا نک پن ظاہر ہونا ضروری ہے تو لازم ہے کہ ویسا ہی بھیا نک ہوجیسا خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کا حسن اس کی تخلیق کے بھیانک پن میں ہے۔حیرت انگیز طریق پر اس کو ہیبت ناک بنادیا گیا ہے اور جب آپ اس مضمون کو ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں تو عام مصنف اور عام مصور کے مقابل پر اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں ایک اور حسن بھی دکھائی دیتا ہے۔قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا تصور کرنا ہو، اسے پہچانا ہوتو کچھ علامتیں آفاقی ہیں کچھ علامتیں ہیں جو تمہارے اپنے وجود کے اندر پائی جاتی ہیں۔پس اس پہلو سے جب ہم اس مضمون کو دیکھتے ہیں تو ایک بہت ہی دلکش انداز میں اس پر روشنی پڑتی ہے اور ایک معمہ حل ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر تخلیق اپنی ذات میں کامل ہے اور اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے مکمل ہے۔باہر کی دیکھنے والی آنکھ اس کو نہیں سمجھ سکتی لیکن وہ مخلوق خود اپنے نفس میں جانتی ہے، روز مرہ کے تجربہ سے جانتی ہے کہ جیسی میں بنائی گئی ہوں اس میں ذراسی تبدیلی پیدا کر دی جائے تو میری تخلیق کا مقصد ہاتھ سے جاتا رہے گا اور باطل میں تبدیل ہو جائے گا، جھوٹ بن جائے گا۔پس گوبر کا کیڑا بھی آپ دیکھ لیں۔آپ کو باہر سے دیکھتے ہوئے چاہے کتنی ہی بدی اس میں دکھائی دیتی ہو ، بدصورتی دکھائی دیتی ہو، گند دکھائی دیتا ہولیکن گوبر کے کپڑے میں کوئی اس کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔اگر کرے گا تو خدا کی تخلیق میں نقص پیدا کر دے گا۔ڈائنا سورز (Dinosaurs) آپ کو کتنے ہی بھیانک کیوں نہ دکھائی دیں مگر اس وقت ان کی بقا کے لئے اور ان کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے وہی شکل ہے جو کام دے سکتی تھی۔اس شکل میں کوئی ایسی تبدیلی کی جاتی جو ان کو ان کے دائرہ کار سے باہر لے جاتی جس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اس کا ایک دائرہ جو کھینچا گیا ہے اس دائرے کے اندران کو نہ رہنے دیتی اور ان کو باہر نکال دیتی تو وہ ان کی ہلاکت کا دن ہوتا۔پس یہ بھی ایک مضمون ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی تخلیق پر غور کرتے ہیں تو مؤمن کے دل سے یہ جو آواز اٹھتی ہے کہ مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا (ال عمران : ۱۹۲) اس سے یہ مضمون حل ہو جاتا ہے کہ ہر چیز اپنے اندر ایک خاص مقصد لئے ہوئے ہے اور اس کی تخلیق اس مقصد کے عین مطابق ہے اور اس میں کوئی باطل کا پہلو نہیں ہے۔تو وہ بھیانک ڈائنا سورز (Dinosaurs) اس نقطۂ نظر سے دیکھیں تو بہت ہی خوبصورت دکھائی دیں گے اور دل سے بے اختیار وہی آوا ز اٹھے گی کہ