خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 771 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 771

خطبات طاہر جلد ۱۲ 771 خطبه جمعه ۸/اکتوبر ۱۹۹۳ء گزشتہ جمعہ پر میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ خالق کی اپنی مخلوق پر ایک چھاپ ہوتی ہے اور خالق کا حسن اس کی تخلیق میں ضرور جلوہ گر ہوتا ہے۔اس ضمن میں ایک اور شبہ یا وہم ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔جب ہم خدا تعالیٰ کی کائنات پر نظر کرتے ہیں تو بعض بہت ہی بھیا نک اور بدصورت چیزیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ایسے ایسے خوفناک شکلوں کے جانور ہیں جن کو بچے دیکھیں تو ڈر سے ان کی نیندیں اڑ جاتی ہیں اور ایسی مخلوقات ہیں جو اس سے پہلے زمین میں دفن ہو گئیں ان کو انہوں نے جب موت سے دوبارہ اجالا ہے یعنی ان کے دبے ہوئے ڈھانچوں سے، ان کے پنجروں کو دیکھ کر انہوں نے ان کی از سرنو تخلیق کی کوشش کی ہے تو بڑے بڑے بھیا نک جسم سامنے آئے ہیں۔پس سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر خالق کی چھاپ میں یہ بدصورتی کیسے ہوگئی۔میں اب آپ کو اسی مثال کی طرف واپس لے کر جاتا ہوں جو میں نے ایک تصویر کے ساتھ مصور کے حسن کی نسبت کی صورت میں بیان کی تھی ہر مصور کو اپنی تصویر سے ایک نسبت ہوتی ہے اور وہ حسن کی نسبت ہے جو مصور میں پایا جاتا ہے لیکن تصویر میں سارے حسن کی تو نہیں بنائی جاتیں۔تصویریں بعض دفعہ بڑی بڑی خوفناک اور بھیانک بنائی جاتی ہیں اور بعض مصنف ایسے ایسے خوفناک کریکٹر اور کردار اپنے قلم سے اچھالتے ہیں کہ انسان ان کو حیرت زدہ ہو کر دیکھتا ہے لیکن اس کے باوجود محبت کی نظر سے نہیں بلکہ بعض دفعہ خوف کی نظر سے ، بعض دفعہ نفرت کی نظر سے۔پھر وہ مضمون کہاں گیا کہ ہر مصنف کو اپنی تصنیف سے نسبت ہے۔ہر مصور کو تصویر سے ایک نسبت ہے جو وہ بناتا ہے۔بات یہ ہے کہ تخلیق کا حسن قطع نظر اس کے کہ کیا تخلیق ہے، اپنی ذات میں ایک مقام رکھتا ہے ایک مصور جب بدصورت چیز بنا کر دکھانا چاہتا ہے تو اس کے قلم سے اگر کہیں خوبصورتی ظاہر ہو جائے تو مصور کا کمال نہیں ہوگا بلکہ اس کی غلطی اور اس کی خامی ہوگی۔جب ایک بھیانک تصور کو مصور ہو یا ایک لکھنے والا ہو اپنے قلم سے کاغذ پر اتارتا ہے تو جتنا بھیا نک وہ تصور ہے بعینہ ویسا تصور کاغذ کے اوپر نقش ہو جانا چاہئے۔پس اگر بھیانک تصور کو پیش کرنا مقصد ہواور وہ مقصد بعض اغراض کے پیش نظر ہوا کرتا ہے تو تصویر کا بھیانک ہونا ایک لازمی بات ہے۔اگر بھیا تک نہیں ہوگی تو مصور کا نقص ہوگا۔اگر وہ مضمون بھیا نک نہیں ہوگا تو ایک مصنف کا نقص ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہر نقص سے پاک ہے۔پس جب وہ ایک خاص مقصد کے لئے ایک چیز کو پیدا کرتا ہے اور اس مقصد کو پورا کرنے کے