خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 759 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 759

خطبات طاہر جلد ۱۲ 759 خطبہ جمعہ یکم اکتو بر۱۹۹۳ء کوئی نہیں لیکن اس کی صفات حسنہ اس کے وجود کا تشخص کرتی ہیں۔پس وہ صفات حسنہ تمہاری ذات میں اس طرح ظاہر ہوں گی کہ تم مظہر خدا بن جاؤ گے، تمہارے اندر خدا دکھائی دینے لگے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کے عشق میں جو مضمون سب سے زیادہ بیان فرمایا وہ یہی ہے کہ میں اس کو خدا تو نہیں کہہ سکتا مگر خدا نما ضرور تھا۔ایسا خدا نما کہ کبھی ایسا اور خدا نما آپ کو کہیں دکھائی نہیں دے گا، نہ پیدا ہوا نہ ہوسکتا ہے۔خدا نما تبھی ہو سکتا ہے کہ اگر خدا کی شکل اس میں دکھائی دے یعنی ان معنوں میں شکل جو میں بیان کر چکا ہوں۔خدا کے رنگ اس میں دکھائی دیں۔خدا کی فطرت اس میں دکھائی دے۔یہ مضمون واضح ہونے کے بعد اب میں وہ حدیث پڑھتا ہوں جس کا میں نے ذکر کیا تھا اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے واضح الفاظ میں فرمایا ان الله عز و جل خلق ادم على صورته (مسند احمد جلد ۲ صفحہ ۳۲۳۰) اور اس طرح وہ جو اشتباہ تھا وہ دور فرما دیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کی فطرت پر پیدا ہو علی صورتہ کا تو پھر اور مطلب نکلتا ہی نہیں۔جو خدا کی صورت ہے اس پر پیدا فرمایا ہے اور اللہ کی صورت کیا ہے؟ اللہ کی صورت صفاتِ حسنہ ہیں اس کے سوا اس کی کسی صورت کا کسی کو علم نہیں تو یہاں جو ہمارے ہاں سیرت کہلاتی ہے اللہ کے ہاں وہی صورت بن گئی ہے کیونکہ وہ لطیف تر وجود ہے۔ہر لطیف وجود کا جسم بھی دوسروں کے مقابل پر لطیف ہوتا ہے تو خدا کا چونکہ جسم کوئی نہیں ہے اس لئے اس کی صورت صفات کی صورت میں ہے اور مرنے کے بعد ہماری روح کی بھی صورت صفات کی صورت بن جائے گی اور وہ کیا ہوگی۔ہم ابھی اس کا تصور نہیں کر سکتے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں علم نہیں ہوسکتا کہ تم کس صورت میں اٹھائے جاؤ گ۔وَنُنْشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ (الواقعہ :۱۲) ہم تمہیں ایسی صورت میں اٹھا ئیں گے کہ تمہیں تصورہی کوئی نہیں تمہیں علم ہی کوئی نہیں ہوسکتا۔پس یہ جو مولویوں کا واہمہ ہے کہ جنت کے ایک پیڑ کے نیچے حلوے کے ایک ڈھیر کے اوپر ہم بیٹھے حلوے کھا رہے ہوں گے یہ جاہلانہ تصور ہیں ، ان کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں۔وہ تمثیلات ہیں ہمیں بتانے کے لئے کہ بہت اچھی چیزیں ہیں لیکن حقیقت میں ہماری جو موجودہ صورتیں ہیں وہ غائب ہو چکی ہوں گی۔مٹی مٹی میں مل جائے گی سیرت سے ایک صورت نکلے گی۔یہاں خدا کی