خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 755
خطبات طاہر جلد ۱۲ 755 خطبه جمعه یکم اکتو بر۱۹۹۳ء کہ بندہ میر امثل بھی نہیں ہے۔کوئی میر امثل نہیں ہے لیکن بندے میں میں نے اپنی صفات کو اختیار کرنے کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔پس غیر ہوتے ہوئے ،خدا جیسا نہ ہوتے ہوئے بھی وہ خدا تعالیٰ کا رنگ اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ معنیٰ ہے اللہ کی فطرت پر بندے کا پیدا کرنا اور ان معنوں میں جس نے ایسی عظیم صلاحیت حاصل کی کہ وہ اپنی ذات کو بالکل مٹا دیا اور کلیۂ الہی صفات میں رنگا گیا اس کو احتیاط کے طور پر دنیا کو سمجھانے کے لئے یہ اعلان کرنے پر مامور فرمایا گیا کہ قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ان سب رنگوں کے باوجود جو تم مجھ میں خدا کے رنگ دیکھتے ہو میں ایک بشر ہوں، بشر سے زیادہ میری کوئی حیثیت نہیں۔ہے۔یہ بات توجہ کے لائق ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے اپنی فطرت پر انسان کو پیدا نہ کیا ہوتا تو انسان کے لئے خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کا کوئی سوال باقی نہ رہتا۔محبت کے لئے کچھ ایسی اقدار کی ضرورت ہوتی ہے جو دونوں میں مشترک ہوں۔اقدار کے مشترک ہونے کا مضمون بڑا گہرا اور باریک ہے۔یہ مراد نہیں ہے کہ صرف ایک خوبصورت آدمی ایک خوبصورت چیز سے محبت کر سکتا ہے لیکن اس کی فطرت کے اندر حسن کا ایک تصور موجود ہے اور ہر شخص کا حسن کا تصور الگ الگ ہے جہاں وہ اپنے حسن کے تصور کو واقعہ مشہود صورت میں دیکھتا ہے، اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ایک وجود کی صورت میں ڈھلا ہوا دیکھتا ہے تو وہاں اس کا اس وجود پر عاشق ہونا ایک طبعی امر ہے اور ایسا امر ہے جس پر اس کا اختیار ہی کوئی نہیں رہتا۔ناممکن ہو جاتا ہے کہ اس کی محبت میں وہ مبتلا نہ ہولیکن ضروری نہیں کہ اس کا مثل ہو۔غیر مثل ہوتے ہوئے محبت کرتا ہے۔ایسے ایسے خوفناک انسانوں کو ایسے ایسے خوبصورت وجودوں سے محبت ہو جاتی ہے کہ آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کہ ان کے درمیان کوئی قدر مشترک ہوگی لیکن ہو جاتی ہے۔پیرس میں ایک چرچ نـو تـخـدام (Notredame) ہے یعنی My Lady کا چرچ اس کا نام ہے ہماری لیڈی اس کے اوپر فرانس کے ایک ناول نگار نے ایک ناول لکھا ہے جس کا نام ہے Hunch back of Notredame میں نے انگلش میں اس کا ترجمہ پڑھا تھا۔مطلب ہے نوٹر ڈم کا کبڑا اس میں کہانی یہ بیان کی گئی ہے کہ اس چرچ میں ایک خادم تھا جو کبڑا تھا اس کو ایک لڑکی سے محبت ہو گئی ہے جو ہر لحاظ سے اپنے حسن میں اپنی سیرت میں کامل ہے (غالبا حضرت Marry کے تصور کی کوئی لڑکی ہے یا اس سے ملتا جلتا کوئی مضمون تھا) اور یہ شخص بے چارہ نہایت ہی