خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 738
خطبات طاہر جلد ۱۲ 738 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء ہے۔ میں نے تو جب یہ پڑھا تو میں اس بات پر سر دھنے لگا کہ کیا شان ہے لبید کی بنخ نخ لبید محمد رسول الله اللہ ﷺ سے داد پا رہا ہے لیکن یہ شعر ہے ہی ایسا۔ کیسا پیارا کلام ہے! الا كل شَيْءٍ مَّا خَلَا اللَّهَ بِاطِلٌ میں احادیث کی طرف ، پھر دوبارہ انشاء اللہ واپس آؤں گا ان سے پہلے اس ضمن میں چند اور آیات میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جن میں یہی مضمون مختلف طرح سے بدل بدل کر پیش کیا گیا ہے کبھی ایک پہلو سے کبھی دوسرے پہلو سے اور اس مضمون پر اگر چہ بہت سی اور آیات بھی ہیں لیکن چونکہ اس کو ایک دو خطبات میں سمیٹنے کا میرا ارادہ تھا اس لئے سارا مواد نہیں بلکہ چند آیات نمونے گئی ہیں۔ فرماتا ہے۔ يَأَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلْقِيهِ فَأَمَّا مَنْ أوتِي كِتُبَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا وَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُورًا وَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتُبَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ فَسَوْفَ يَدْعُوا ثُبُورًا وَيَصْلَى سَعِيرًا (الانشقاق : ۱۳۷) اس کی پہلی آیت ہے جو خصوصیت سے پیش نظر ہے۔ باقی اس کے نتائج ہیں جو بعد کی دیگر آیات میں بیان فرمائے گئے ہیں ۔ فرمایا: يَأَيُّهَا الْإِنْسَانُ اے انسان! إِنَّكَ كَادِحٌ إلى رَبِّكَ كَدْحًا تو پوری کوشش اور زور لگا کر جد و جہد کے ساتھ اپنے رب کی طرف جانے والا ہے فَمُلقِيهِ ۔ پس خوشخبری ہو کہ تو ضرور ا سے مل جائے گا۔ اس آیت کا اللہ تعالیٰ کے مختلف بندوں پر صلى الله مختلف رنگ میں اطلاق ہوتا ہے جہاں تک حضرت محمد اقدس مصطفی ﷺ کا تعلق ہے اول اطلاق آنحضور صلى الله ا نور ﷺ کی ذات پر ہے اور اس کے معنی دوسرے انسانوں پر اطلاق کے معنوں کے مقابل پر بہت ہی زیادہ رفیع الشان ہیں ۔ یعنی یہی آیت ادنی انسان پر بھی اطلاق پاتی ہے اور اعلیٰ پر بھی پاتی ہے اور ایسا کلام ہے کہ ہر اطلاق کے مطابق اپنے مضمون بدلتی ہے اور ہر اطلاق کے مطابق ڈھلتی چلی جاتی ہے آنحضور ﷺ پر جب اس کا اطلاق کیا جائے جو اول مخاطب ہیں تو یہ مطلب ہے کہ اے انسان کامل! الانسان، جو فی الحقیقت انسان کہلانے کا مستحق ہے اور تمام انسانیت کا خلاصہ اور تمام