خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 737
خطبات طاہر جلد ۱۲ کا ہے لبید کہتا ہے۔737 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء اَلَا كُلَّ شَيْءٍ مَّا خَلَا اللَّهَ بِاطِل (بخاری کتاب المناقب:۳۵۵۳) خبر دار ! غور سے سن لو! اللہ کے سوا ہر دوسری چیز باطل ہے ایک ہی حق ہے خدا سے آنحضرت ﷺ کے عشق کے نتیجہ میں یہ شعر ایسا دل پر لگا ہے کہ بے اختیار دل سے داد اٹھی ہے۔واہ واہ کیا کلام ہے کہ کبھی کسی شاعر نے اس سے زیادہ سچی بات نہیں کی اللہ کے سوا ہر چیز کا باطل ہو جانا، یہی بات آپ کو فرار کی طرف مائل کرتی ہے ایک ہی وجود رہ جائے گا۔باقی کچھ نہیں رہے گا ایک مستقبل میں بھی اس کے معنی ہیں، سب تعلق بے کار چلے جائیں گے کوئی ساتھ نہیں دے گا صرف ایک اللہ کا تعلق ہے جس کے ساتھ بیشگی کا سفر ہے، اس کی طرف دوڑو، جس سواری پر چڑھ کر آپ نجات کا سفر اختیار کر سکتے ہیں جبکہ خطرہ ہو کہ سیلاب آنے والا ہے ، جب کہ خطرہ ہو کہ جنگلی درندے وہاں اس علاقہ میں راہ پانے والے ہیں، جبکہ خطرہ ہو کہ ڈاکو آئیں گے یا فوج کشی ہوگی ، تو ان سب حالات میں وہ سواری جو امن کے مقام کی طرف لے جاتی ہے وہی ایک سواری ہے جس کا ذکر اس شعر میں ملتا ہے۔اَلَا كُلَّ شَيْءٍ مَّا خَلَا اللَّهَ بِاطِلٌ خبر دار ! خدا کے سوا ہر دوسری چیز باطل ہے۔الله یہ چونکہ ایک گہرا عارفانہ مضمون تھا اس لئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے اس پر ایسی داد دی جیسی داد کبھی کسی شاعر کو نہیں دی گئی اور بڑا ہی خوش نصیب ہے لبید کہ سب سے زیادہ عارف باللہ نے اس کو داد دی ہے اور ایسی بات ہوئی ہے کہ جس کی کوئی مثال آپ کو دنیا میں دکھائی نہیں دے گی، ہو سکتا ہے کہ دوسرے انبیاء نے بھی بعض شعراء کو داد دی ہو مگر رسول اکرم سے بڑھ کر صاحب عرفان اور صاحب ذوق انسان متصور ہی نہیں ہوسکتا۔یہ دونوں باتیں قطعی ہیں اللہ کا جیسا عرفان آنحضرت مالیہ کو نصیب ہوا یہ آپ کے فرار الی اللہ سے ثابت اور بالکل ظاہر وباہر ہے اور جس کے ذوق نے خدا کو محبت کے لئے چن لیا ہو اس سے بہتر ذوق ہو ہی نہیں سکتا تو سب سے زیادہ عارف باللہ اور سب سے زیادہ صاحب ذوق انسان جس پر وہ کلام نازل ہوا جس سے زیادہ فصیح و بلیغ کلام اور کوئی نہیں تھا جس کو خود کلام پر وہ قدرت نصیب ہوئی کہ تمام اہل علم پکار اٹھے کہ رسول اکرم افصَحُ الْعَرَبِ بعد کتاب اللہ ہیں کہ کتاب اللہ کے بعد سب سے زیادہ فصیح و بلیغ انسان حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ تھے۔اس کے باوجود آپ نے لبیڈ کو اس کے ایک شعر پر داد دی