خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 736
خطبات طاہر جلد ۱۲ 736 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء اب شرک کی طرف مائل ہونا بھی ایک درجہ بدرجہ مضمون ہے یہ مراد تو نہیں ہے کہ ہر ماں اپنے بچے کے غم میں پاگل ہو رہی ہو تو وہ ضرور مشرک ہے۔بعض دفعہ وقتی طور پر ایک غم دبا لیتا ہے لیکن پھر ایسی مائیں جلدی سنبھل جاتی ہیں لیکن بعض ہیں جو ہمیشہ ہمیش کے لئے روگ لگا بیٹھتی ہیں اور ان کے لئے کچھ رہتا ہی نہیں، تو مراد یہ ہے کہ ان کی جائے فرار تو وہ بچہ تھا جو ان کا اصل زوج تھا، وہ نہ رہا تو کوئی جائے فرار نہ رہی لیکن یہ آیت ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر ایسے موقع پر جب غیروں سے تعلق ٹوٹیں گے خواہ ان کی طرف سے ٹوٹیں یا حادثات کے نتیجہ میں ٹوٹیں یا تمہاری غلط امنگوں اور وابستگیوں اور توقعات کے نتیجہ میں ٹوٹیں تو یا درکھو کہ مومن کے لئے ہمیشہ ایک ہی جائے پناہ ہے اور وہ اللہ ہے۔فَفِرُّوا اِلَی الله پس اللہ کی طرف دوڑو۔پس تبتل کے مضمون کی ہر تفصیل اس آیت کریمہ میں بیان ہوگئی اور بنیادی نکتہ یہی ہے کہ امن کی جگہ کا علم نہ ہو، اس سے تعلق نہ ہو، یہ یقین نہ ہو کہ یہاں ضرور امن نصیب ہوگا تو پھر فرار کا مضمون پیدا ہی نہیں ہوتا۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر سے میں نے جو ترتیب بدلی ہوئی دیکھی تو ابتداء میں اپنی جہالت کی وجہ سے کچھ تعجب ہوا لیکن جتنا میں نے اس مضمون پر غور کیا میں حیرت کے سمندر میں ڈوبتا چلا گیا۔عجیب عرفان ہے ، یہ اللہ تعالیٰ کی خاص شان ہے کہ انبیاء کو ایسا عرفان نصیب ہوتا ہے اور اس کے بغیر یہ باتیں قلم سے نکل نہیں سکتیں ، زبان پر جاری نہیں ہوسکتیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کو عزت اور وقار کی نظر سے دیکھو اور غور سے اس کا مطالعہ کرو تو پتا چلے گا کہ قرآن کریم اور احادیث کے عظیم الشان عرفان کے سمندر ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر کے کوزوں میں بند ہیں۔اسی ضمن میں آنحضرت مہ کی ایک حدیث پیش کرتا ہوں آنحضور ﷺ نے دوسرے شعراء تعليم کو بہت کم پسند فرمایا ہے اور ان کے شعر پر کوئی داد دی ہے۔کئی ایسے خوش نصیب شعراء ضرور ہیں جن کے قصائد پر آنحضرت میکو نے خوشنودی کا اظہار فرمایا ایک ایسا قصیدہ قصیدہ بردہ کے نام سے مشہور ہے کیونکہ آنحضور ﷺ نے اس شاعر کو اپنی چادر انعام کے طور پر عطا فرما دی تھی۔اس کے علاوہ ایک ایسا شعر ہے جس کے متعلق آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ جتنے بھی شعر کہنے والے ہیں ان میں سے کسی شاعر نے کبھی اس سے زیادہ سچی بات نہیں کی۔یہ داد بے اختیار آپ کے دل سے اٹھی ہے وہ شعر لبید