خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 70 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 70

خطبات طاہر جلد ۱۲ 70 خطبہ جمعہ ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء سامنے رکھا اور تمام دنیا کی سیادتوں کی کنجی ہمیں پکڑا دی جب فرما یاسیـدالـقوم خادمهم تم اگر دنیا کے سردار بنا چاہتے ہو تو تمہیں ان کی خدمت کرنا ہوگی۔پس بنی نوع انسان کی خدمت کے نام پر اکٹھے ہو، ان سے فاصلے پیدا کرنے کے لئے اکٹھے نہ ہو۔ایسی باتیں کرو جس سے قوموں کے دل جیتے جائیں۔تمام دنیا کی قومیں تمہیں اپنا راہنما سمجھیں تمہیں اپنا بہی خواہ سمجھیں ان کی خیر تم سے وابستہ ہو جائے۔ایسے مضامین سوچو، ایسے مضامین کے تذکرے کرو ایسا لائحہ عمل بناؤ جس کے نتیجہ میں ایک نئی یونائیٹڈ نیشنز ، ایک نیا عالمی نظام رونما ہو جو محد رسول اللہ ﷺ کے قدموں سے وابستہ ہو، جو اس سچائی سے وابستہ ہو جس سچائی کا ذکر قرآن کریم میں بار بار ملتا ہے۔جو خدا سے پھوٹتی ہے اور تمام بنی نوع انسان کو یکساں منور کرتی ہے آج ضرورت ہے کہ ان باتوں کومل کر سوچا جائے اور پھر ایک نئے عالمی نظام کو قائم کرنے کی داغ بیل ڈالی جائے۔میں نے گلف (Gulf) کے خطبات کے دوران پہلے بھی متنبہ کیا تھا کہ عالم اسلام کے مسائل ختم نہیں ہوئے۔یہ بڑھنے والے ہیں ہوش کے ناخن لو، تفریق کی باتیں چھوڑو۔وسیع تعلقات اپنی باقی دنیا سے بناؤ اور عالم اسلام کو الگ کرنے کی بجائے باقیوں کو اپنی طرف کھینچو اور مل کر عالمی مفاد کی باتیں سوچو۔اس وقت الگ الگ ہونے کا وقت نہیں رہا۔بہت بڑے بڑے مصائب اور بہت بڑے بڑے خطرات درپیش ہیں اور ایک کے بعد دوسرے اسلامی ملک کی باری آنے والی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس صفائی کے ساتھ مجھے اس وقت وہ نظارے دکھائے میرا دل کا نپتا تھا اور میں خدا کے حضور گریہ وزاری کرتا تھا کہ اے اللہ ! ہمیں طاقت بخش ہمیں عقل کی روشنی عطا فرما، ہمیں الہام کا نور عطا کر جس کی روشنی میں ہم آگے چلیں اور ان مشکل وقتوں میں بیچ کی راہ پر قدم مارنے والے ہوں جو خطرات سے پاک راہ ہے۔صرف سچ کی راہ ہے جو خطرات سے پاک ہے۔پس سچائی کے نام پر اکٹھے ہو کر نئے منصوبے بناؤ اور عالم اسلام کو جھوٹ اور دغا بازی اور دوغلے پن اور منافقتوں کے چنگلوں سے آزاد کرنے کی کوشش کرو، ورنہ بڑی تیزی کے ساتھ حالات ہاتھوں سے نکل جائیں گے۔آج یو نائیٹڈ نیشنز امریکہ کی رعونت کا نام ہے۔اس کے سوا اس کا کوئی اور نام نہیں۔تمام قوموں نے سر جھکا دیئے ہیں۔کسی میں کوئی غیرت اور حیا دکھائی نہیں دے رہی۔کوئی اٹھ کر یہ آواز بلند نہیں کر رہا کہ انسانیت کی بات تو کرو، حقوق اور انصاف کی بات تو کر وہ تمہیں کیسے سیادت کا حق ہے۔