خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 730 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 730

خطبات طاہر جلد ۱۲ 730 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء جاپان اور جماعت احمد یہ تنزانیہ کا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے اور مجلس خدام الاحمدیہ ضلع لا ، لاہور کا ایک روزہ اجتماع ہے اور مجلس اطفال الاحمد یہ ضلع کراچی کا اجتماع ہے، اسی طرح خدام الاحمد یہ بیوت الحمد ربوہ نے بھی درخواست کی ہے کہ ہمیں بھی یاد رکھا جائے ۔ وہ مقامات جہاں کل سے اجتماعات شروع ہو رہے ہیں ان میں جماعت احمد یہ سری لنکا، مجلس انصار اللہ سوئٹزر لینڈ ۔ یہ ان کا دوسرا سالانہ اجتماع ہے۔ لجنہ اماء اللہ کینیا اور لجنہ اماء اللہ ضلع بدین کا پہلا سالانہ اجتماع ہے۔ اسی طرح مجلس انصار اللہ ربوہ کا بھی ۲۵ ستمبر سے سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے لجنہ لجنہ ا اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ لاہور کے اجتماعات ۳۰ رستمبر کو ہوں گے، اس سے پہلے کا جمعہ چونکہ آج ہی بنتا ہے۔ یہ اجتماع اگلے جمعہ سے پہلے ہو جائے گا اس لئے ان کو بھی اپنی دعا میں شامل رکھیں ۔ جہاں تک پیغامات کا تعلق ہے ان سب اجتماعات کے لئے کوئی الگ پیغامات تو اب بھیجنے ممکن نہیں ہیں اور ویسے بھی اب اس کثرت سے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں کہ ناممکن ہے کہ ہر اجتماع کے لئے الگ الگ پیغام بھیجے جائیں ۔ خطبہ جمعہ ساری جماعت کے لئے پیغام ہوتا ہے اور تمام ذیلی تنظیمیں اس میں شامل ہوتی ہیں۔ پہلے خطبات کی نصیحتوں پر عمل کر لیں اور نصیحتیں ختم ہو چکی ہوں تو پھر آپ کا حق ہے کہ اور مانگیں لیکن پہلی ختم نہ ہوئی ہوں اور مزید کے مطالبے شروع ہوں، یہ درست نہیں ہے اس لئے ہر جمعہ کا خطبہ آپ سب کے لئے جنہوں نے پیغام کا مطالبہ کیا ہے اور ساری دنیا کی جماعت کے لئے قدر واحد کے طور پر ایک پیغام ہو جاتا ہے اور اسی کو اپنا پیغام سمجھیں۔ یہ آیت کریمہ جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس کا دنیا سے بھاگ کر اللہ کی طرف جانے سے تعلق ہے، اس سے پہلے خطبات کا جو سلسلہ شروع تھا اس میں توحید کا مضمون بیان ہو رہا تھا کہ توحید کس کو کہتے ہیں اور جس طرح حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ توحید کا اس طرح حق ادا کرو جیسا کہ توحید کا حق ادا کرنے کا حق ہوا کرتا ہے، اس شان کے ساتھ توحید پر قائم ہو۔ اس کے بعد دوسری نصیحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تقبل میں بھی ویسا ہی رنگ اختیار کرو تقبل کا مطلب ہوتا ہے ایک چیز سے کٹ کر الگ ہو جانا۔ اس تنے سے کلیہ جدائی بتل - بَتَّلَ اور تبتل یہ عربی کے ماضی کے صیغے ہیں۔ ان کا