خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد ۱۲ 731 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۹۳ء مطلب ایک ہی ہے بگل اور قبل میں ذرا شدت پائی جاتی ہے۔مضمون وہی ہے کسی کو کاٹ دیا کسی کو کاٹ کر الگ کر دیا۔جدا کر دیا اور تبتل کا مطلب ہوتا ہے خود کٹ کر الگ ہو جانا۔عربی لغات میں تَبَيَّلَ کو خالصہ اللہ کے لئے ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ قرآن کریم سے یہ حوالہ ملا ہے اس لئے لغات بھی اس کو یہی بیان کرتی ہیں کہ تبتل سے مراد غیر اللہ سے کٹ کر یا دنیا سے کٹ کر خالصہ اللہ کا ہو جانا ہے۔جب میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس پڑھا تو مجھے کچھ تعجب ہوا کیونکہ میرے ذہن میں یہ تھا کہ تبتل پہلے ہوتا ہے اور توحید کے ساتھ تعلق و وابستگی تنبل کے بعد قائم ہوتے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کسی گہری حکمت کی وجہ سے تو حید کو پہلے رکھا ہے اور تبتل کو بعد میں رکھا ہے۔بعد میں جوں جوں میں نے غور کیا مجھے یہ بات پوری طرح سمجھ بھی آتی گئی اور پورے یقین کے ساتھ دل میں گڑتی چلی گئی کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو تر تیب بدلی ہے یہ آپ کے عارف باللہ ہونے کا ایک عظیم نشان ہے اور اس مضمون پر جتنا گہرا غور کریں اتنا ہی یہ بات کھلتی چلی جاتی ہے کہ اصل تبتل یعنی غیر اللہ سے کٹنا خدا کے وجود سے پیوند کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے اس کے بغیر نہیں ہوسکتا۔محض ایک خلا کے لئے کوئی چیز چھلانگ نہیں مارا کرتی جب تک دوسری طرف کوئی ایسا قدم تھا منے کی جگہ دکھائی نہ دے جس پر پاؤں رکھ کر چھلی طرف سے پاؤں اٹھایا جا سکے کوئی معقول آدمی وہ قدم نہیں اٹھا سکتا۔اسی لئے جب زمیندار پیوند کرتے ہیں تو ایک شاخ کو اپنی اصل شاخ سے کچھ دیر جڑارہنے دیتے ہیں اور دوسری سے جوڑ دیتے ہیں۔جب وہ یہ دیکھ لیتے ہیں کہ دوسری شاخ سے اس کا پیوند پختہ ہو گیا ہے تو پھر پہلی سے کاٹ دیتے ہیں۔پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس ترتیب کو اسی حکمت کے پیش نظر بدلا اور ہمیں یہ سمجھایا کہ تمہیں سچا تبتل نصیب ہو ہی نہیں سکتا۔جب تک خدائے واحد و یگانہ سے پہلے سچا پیار نہ ہو۔وہ تعلق قائم ہوگا تو تنبل کی توفیق ملے گی ورنہ تبتل محض ایک نام کا تبتل رہے گا۔پس انہی معنوں سے تعلق میں، میں نے وہ آیات کریمہ آپ کے سامنے تلاوت کی تھیں جو سورۃ الذاریات سے لی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمِنْ كُلِّ شَيْ خَلَقْنَازَ وَ جَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ کہ ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تا کہ تم نصیحت پکڑو۔جوڑے پیدا کرنے کا تعلق ایک کی دوسرے سے وابستگی میں مضمر ہے ایک جوڑے کو جوڑا بھی کہا جاتا ہے جب ایک کا دوسرے سے تعلق ہو اور آپس میں