خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 719
خطبات طاہر جلد ۱۲ 719 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء جائے جب تم بد باتوں سے روکو تو ان باتوں سے تم خود پاک ہو چکے ہو، یہ مضمون اس میں شامل ہے۔پس اس پہلو سے امر بالمعروف اور نھی عن المنکر جماعت احمدیہ کی اصلاح کے لئے بہت ضروری ہے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جی ہم میں کمزوریاں ہیں ہم کیسے لوگوں کو نصیحت کر سکتے ہیں؟ قرآن کریم نے ان کا منہ بند کر دیا ہے نصیحت کا حکم دے ہی دیا ہے جیسے بھی ہو نصیحت ضرور کرنی ہے۔جب نصیحت کرو گے تو تمہارا نفس آپ ہی تمہیں پکڑے گا۔ہر روز شرمندگی اٹھانی پڑے گی جب علیحدہ بیٹھو گے تو سوچو گے میں یہ باتیں کہہ کے آیا ہوں مجھ میں تو یہ نہیں ہیں اور اندر اندر تمہارا نفس ندامت اور شرم سے کٹنا شروع ہو جائے گا بسا اوقات تم پانی پانی ہو رہے ہو گے لیکن مجبور ہو خدا نے تمہیں دوسرا رستہ ہی نہیں دیا حکم دے دیا ہے کہ تم نے ضرور امـــربــــالــمـعـروف کرتا ہے پس جوامر بالمعروف غیروں کی جانب ہے وہ اندر کی طرف بھی ایک رخ رکھتا ہے اور وہ لوگ جو دل کے بچے ہوں اگر ان میں بعض خوبیاں نہ بھی ہوں تو امر بالمعروف کے نتیجے میں ان خوبیوں کی طرف توجہ پیدا ہوگی اور رفتہ رفتہ انسان وہ خوبیاں اپنانے کا اہل ہوتا چلا جائے گا۔بدیوں سے روکنے والا شخص اگر اس میں کچھ شرافت اور حیا باقی ہو تو جب رو کے گا اس کا دل کئی گنازیادہ طاقت سے اس کو روک رہا ہوگا۔اس کا ضمیر اس کو ملامت کر رہا ہو گا کئی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کا ضمیر پھر ایسا طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے کہ ان کی راتوں کی نیند حرام کر دیتا ہے وہ بے چینی سے لکھتے ہیں کہ ہم میں فلاں برائی ہے جو جاتی نہیں فلاں کمزوری ہے جو ٹتی نہیں فلاں خوبی ہم اپنا نا چاہتے ہیں کوشش کر رہے ہیں لیکن نہیں اپنا سکتے یہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک طبعی نتیجہ ہے اور اس معاملے میں خدا نے آپ کو کوئی آزادی نہیں دی۔ہر مسلمان کے لئے حکم ہے کہ اس نے ضرور امر بالمعروف کرتا ہے اور ضرور نھی عن المنکر کرنی ہے اور دوسری طرف یہ شرط لگادی ہے کہ جو تم کہتے ہو ایسا کیا بھی کرو۔اب بتائیں کہ جائے کہاں کوئی ؟ دونوں طاقتوں کے بیچ میں ایسا پھنسا ہے کہ قرآن کریم نے کوئی جائے فرار باقی نہیں چھوڑی۔ایک طرف یہ آواز ہے کہ امر بالمعروف کرو نهی عن المنکر کرو اور دوسری طرف آواز آرہی ہے کہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف :۳۰۴) کیوں ایسی باتیں کہتے ہو جو کرتے نہیں۔اللہ کے نزدیک وہ باتیں کہنا جو تم کرتے نہیں