خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 712
خطبات طاہر جلد ۱۲ 712 خطبہ جمعہ ۷ استمبر ۱۹۹۳ء کا حصہ شامل ہو جائے گا جو صاحب توفیق ہیں۔اب احمدی اپنی تعداد کے لحاظ سے اتنے تھوڑے اور اپنے مالی وسائل کے لحاظ سے اتنے محدود ہیں کہ اگر یہ چاہیں بھی تو دنیا کی بھوک دور نہیں کر سکتے ، دنیا کا ننگ مٹانہیں سکتے ، ننگے بدن کو کپڑا نہیں پہنا سکتے خود بوسنیا کی ذمہ داریاں اتنی زیادہ ہیں کہ ہم اپنے دل کی طمانیت کی خاطر حسب توفیق کچھ نہ کچھ ضرور کر رہے ہیں لیکن جو عظیم ضرورت ہے اس کے مقابل پر وہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں، نہ ہو سکتا ہے۔تو اس کا متبادل یہ ہے اور بہتر متبادل کہ جو کچھ توفیق ہے وہ ضرور کرو لیکن توجہ اس بات کی طرف دو کہ دنیا کو بتاؤ کہ ان کی کیا ذمہ داریاں ہیں اور ان کو کیا کرنا چاہیے۔تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تم معروف کا حکم عام کرو۔اسی ہدایت کے پیش نظر یعنی قرآن کریم کی اس تعلیم کے پیش نظر میں نے کثرت کے ساتھ ساری دنیا کی جماعتوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ دن رات خطوط کے ذریعے ، رابطوں کے ذریعے ، اخباروں میں کالم لکھوا کر اور بڑے بڑے لوگوں کو ذاتی طور پر مل کر متوجہ کر کے یہ احساس بیدار کریں کہ آج کی تاریخ میں ایک معصوم قوم پر حد سے زیادہ ظلم ہورہا ہے اور اگر آج کے انسان نے اس سے آنکھیں بند رکھیں تو کل وہ ضرور اس جرم کی پاداش میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا مورد بنے گا اور اس سزا سے بچ نہیں سکتا۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ بڑی بڑی قوموں کی طاقت ہے ان کے بغیر ہم کیا کر سکتے ہیں مگر امر بالمعروف میں بہت بڑی طاقت ہے۔امر بالمعروف میں جتنی طاقت ہے دنیا کی کوئی اور طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر امر بالمعروف کو عام کیا جائے اور تمام زبانوں پر یہ بات جاری ہو جائے کہ ظلم ہو رہا ہے اور ہم نہیں برداشت کریں گے یا نہیں پسند کریں گے تو اس کا نفسیاتی دباؤ بڑی طاقتور قوموں پر اتنازیادہ پڑ جاتا ہے کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔پھر امر بالمعروف میں کوئی جغرافیائی قید نہیں ہے جو صاحب حیثیت اور طاقتور قو میں ہیں وہاں بھی تو امر بالمعروف کرنا ہے اور ان کی رائے عامہ کو تبدیل کرنا ہے۔اس پہلو سے جماعت امریکہ کو میں نے خصوصیت سے توجہ دلائی کہ امر بالمعروف پر بہت زیادہ زور دیں چنانچہ پتالگا کہ ہزار ہا خطوط وہاں سے بعض دفعہ روزانہ اور بعض دفعہ ہفتوں میں لکھے گئے اور بڑے چھوٹے مرد عورتیں سب تمام بڑے بڑے سینیٹرز اور کانگریس مین اور بڑے بڑے اخباروں کے ایڈیٹرز اور ٹیلی ویژن کے صاحب اختیار