خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 713
خطبات طاہر جلد ۱۲ 713 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء لوگوں کو لکھتے رہے اور اس کے نتیجہ میں ایک عام فضا میں یہ احساس بیدار ہونا شروع ہوا۔ان کے جو جوابات ان کو ملے ہیں اور انہوں نے جو مجھے ان کے نمونے بھیجے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ امربالمعروف کی طاقت کوئی معمولی طاقت نہیں ہے۔بار بار جب ایک ہی سینٹر کو مختلف جہتوں سے چھوٹے بڑوں نے بے ساختہ اپنی تکلیف کا اظہار کیا اور انسانیت کی خاطر جوان کے جذبات کچلے گئے ہیں ان کا ذکر کیا تو ایک امریکن کی حیثیت سے انہوں نے اپنے بڑوں سے احتجاج کیا ہے اور اس کا جتنا اثر پڑا ہے وہ ان کے جوابات سے ظاہر ہوتا ہے۔کئی جوابات ایسے ہیں جن میں سیکرٹری کی طرف سے جواب نہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں نے اپنے ہاتھ سے دستخط کر کے بھیجے ہیں کہ ہاں ہمیں احساس ہے یہ ہماری قوم کی غلطی ہے کہ جتنی توجہ دینی چاہئے تھی نہیں دی جارہی۔ہم اپنے بڑوں کو متوجہ کریں گے تو امر بالمعروف ایک بہت عظیم الشان اور بہت بڑی خدمت ہے اور یہی وہ ذریعہ ہے جس کو جنگ کی حالت میں جرمنی نے بہت ہی حکمت اور عقل کے ساتھ استعمال کیا۔اگر چہ بالمعروف حکم نہیں تھا لیکن نفسیاتی طور پر بات وہی تھی کہ اگر ایک بات کو کسی قوم میں عام پھیلایا جائے تو اس سے قوم کے خیالات پر گہرا اثر پڑتا ہے اور اس کے نظریات اور رجحانات میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔پس آج کی دنیا میں جسے Fifth Column کہا جاتا ہے وہ اسی نفسیاتی پرو پیگنڈے کا نام ہے جس میں کوئی ہتھیار نہیں چلتا ، کوئی دباؤ نہیں ڈالا جا تا۔ہوٹلوں میں مختلف جگہوں پر بیٹھ کر باتیں عام کی جاتی ہیں اور جب بار بار کوئی قوم یہ سنتی ہے کہ ہم ہار گئے ہم مارے گئے تو نفسیاتی لحاظ سے وہ مغلوب ہو جاتی ہے جب بار بار یہ ذکر سنتے ہیں کہ فلاں قوم او پر آگئی ، غلبہ پاگئی تو اس کے غلبے کے لئے وہ اپنے نفس کو تیار کر لیتے ہیں۔پس امر بالمعروف میں عام باتیں بھی شامل ہیں خواہ ہوٹل میں بیٹھیں ، خواہ گاڑی میں سفر کر رہے ہوں جہاں بھی آپ پھر رہے ہوں وہاں اچھی باتوں کو عام کریں۔پھر فرمایا ہے وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ بری باتوں سے روکتے ہیں یہاں یہ جو قرآن کریم کی خصوصی ترتیب ہے اس کو قائم رکھا گیا ہے۔جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے نیکی کو بیان فرمایا ہے، نیکی کو پہلے بیان فرمایا ہے بدی کو دور کرنے کا بعد میں ذکر کیا ہے اِدْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ (المومنون: ۹۷) جو اچھی چیز ہے اس کے ذریعے بدی کو دور کرو۔