خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 711
خطبات طاہر جلد ۱۲ 711 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء کا ذکر پہلے فرما دیا اور ایمان کا ذکر بعد میں کیا۔اس ضمن میں یاد رکھنا چاہئے کہ نیکی کے عام کام جو بنی نوع انسان کی بھلائی سے تعلق رکھتے ہیں اس میں نہ صرف یہ کہ سب مذاہب والے کسی نہ کسی حد تک شامل رہتے ہیں بلکہ بعض صورتوں میں مسلمانوں سے آگے بھی بڑھ جاتے ہیں۔مثلاً خدمت خلق کے کام جتنا عیسائی تو میں کر رہی ہیں بدنصیبی ہے کہ آج عالم اسلام کو وہ توفیق نہیں مل رہی۔اس سے بڑی بدنصیبی کیا ہوگی کہ اپنے مسلمان بوسنین بھائی جو گھر سے بے گھر ہوئے ان کو پناہ دینے والے بھی وہی ہیں جن کی ظالمانہ عدم دلچسپی سے وہ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور عالم اسلام کو یہ توفیق نہیں ملی کہ ان کی خدمت کر سکے۔پس خدمت کے کاموں میں مسلمانوں کا کوئی ایسا امتیاز نہیں ہے کہ جس میں دوسرے شریک نہ ہوں۔اسلام جب اپنی اعلیٰ حالت پر تھا اس وقت خدمت کے ہر کام میں مسلمان سب دوسری قوموں سے بڑھ چکے تھے تبھی ان کو خیر امۃ فرمایا گیا کیونکہ اگر خدمت کے کسی کام میں بھی دوسرے آگے بڑھتے تو مسلمان اس پہلو سے خَيْرَ أُمَّةٍ نہیں کہلا سکتے تھے۔پس یا درکھیں کہ خَيْرَ أُمَّةٍ میں اعلیٰ مرتبہ جس کی خدا توقع رکھتا ہے وہ بیان ہوا ہے تم سے خدا یہ توقع رکھتا ہے کہ تم خدمت خلق کے کاموں میں سب سے آگے ہو اور سب قوموں کی بھلائی تم سے وابستہ ہو۔لیکن چونکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر حال میں مسلمان یہ اعلیٰ مقصد پورا کر سکیں یا ان کی توقعات پر پورا اتریں اس لئے عام دنیا کا جو حال ہے وہ ہم اسی طرح دیکھتے ہیں کہ ایمان والی قوموں میں نسبتاً کم ایمان والی بعض دفعہ خدمت کے کاموں میں آگے بڑھ جاتی ہیں اور بعض دفعہ بے ایمان قو میں بھی خدمت کے کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔تو جو عام چیز ہے اور جو بنی نوع انسان میں مشترک ہے اس کا یہاں بیان ہے اور اس میں سے بھی وہ چیز چنی گئی ہے جو جسمانی خدمت کی بجائے روحانی اور اخلاقی اور قومی اقدار کے لحاظ سے خدمت کہلا سکتی ہے جو بالا اور افضل خدمت ہے۔ایک غریب کو روٹی کھلا دینا بھی اچھی بات ہے لیکن روٹی کھلانے کی تلقین کرنا جس کے نتیجے میں صاحب حیثیت قو میں غریبوں کی طرف توجہ کریں یہ سب سے افضل بات ہے کیونکہ اگر نصیحت کے ذریعہ آپ لوگوں کے مزاج بدل دیں، ان کی اقدار میں پاک تبدیلیاں پیدا کر دیں ان کو نیک کاموں کی طرف مائل کر دیں تو آپ کی ذاتی توفیق جو بہت تھوڑی ہوسکتی ہے اس توفیق میں ان سب قوموں