خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 710 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 710

خطبات طاہر جلد ۱۲ 710 خطبہ جمعہ ۷ ار ستمبر ۱۹۹۳ء مظفر آباد اور ضلع جھنگ کے سالانہ اجتماعات بھی آج ۷ ار ستمبر کو منعقد ہورہے ہیں۔مجالس انصار اللہ ضلع راجن پور ضلع بہاولنگر، ضلع بہاولپور کے سالانہ اجتماعات کل ۶ ار ستمبر سے شروع ہو چکے ہیں اور آج بھی جاری رہیں گے۔ان سب کے لئے جو پیغام آج میں آپ کے سامنے رکھوں گا اس کا تعلق اس آیت کریمہ سے ہے جو میں نے ابھی تلاوت کی تھی۔كُنتُمْ خَيْرًا مَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اس آیت سے متعلق میں پہلے بھی مختلف خطبات میں روشنی ڈال چکا ہوں لیکن آج پھر اس کے ایک پہلو کو خاص طور پر آپ کے سامنے رکھوں گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم بہترین امت ہو یعنی جب سے دنیا میں خدا تعالیٰ نے مذاہب کا آغاز فرمایا ہے اور امتوں کو دنیا کی بھلائی کے لئے نکالا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ سب امتوں سے بہتر تم ہو۔أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ جو بنی نوع انسان کی خاطر ، ان کی خدمت کے لئے ، ان کی بھلائی کی خاطر کھڑی کی گئی ہے اور اس بھلائی کی تعریف یہ ہے کہ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تم نیکی کا حکم دیتے ہو۔” وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ اور بدیوں سے روکتے ہو وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ اور اللہ پر ایمان لاتے ہو وَلَوْ أَمَنَ أَهْلُ الْكِتُبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمُ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لئے بہتر ہوتا مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفُسِقُوْنَ کچھ ان میں سے ایسے ضرور ہیں جو ایمان والوں میں شمار ہو سکتے ہیں لیکن بھاری اکثریت ایسی ہے جو ایمان نہیں لاتے یعنی اپنے دین کی چار دیواری کے اندر رہتے ہوئے بھی ان کی اکثریت ایسی ہے جن کا کوئی ایمان نہیں لیکن چند ایک ایسے ضرور ہیں اور ہر مذہب میں ہوتے ہیں جو صاحب ایمان کہلا سکتے ہیں۔اس آیت میں جو نکتہ خصوصیت سے میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ اس کی ترتیب ہے۔قرآن کریم میں آپ جہاں جہاں بھی ایمان کا ذکر پڑھیں گے ایمان کا ذکر پہلے کرتا ہے اور عمل صالح کا بعد میں کرتا ہے یہاں ترتیب بدل گئی ہے یہاں فرمایا ہے تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ تمہارے بہترین ہونے کی خصوصیت کے ساتھ نشانی یہ ہے، تمہاری امتیازی شان یہ ہے کہ تم لوگوں کو معروف کا حکم دیتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔تو جہاں تک مرتبے کا تعلق ہے ایمان کا مرتبہ بہر حال پہلے ہے جب ترتیب بدلی جائے تو ضرور اس میں کوئی حکمت پیش نظر ہوتی ہے۔پس سوال یہ ہے کہ وہ کیا حکمت ہے جس کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے نیکی کے عام کاموں