خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 703 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 703

خطبات طاہر جلد ۱۲ 703 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۹۳ء کا ایک ایسا عظیم نقشہ کھینچا گیا ہے۔جب سے دنیا بنی ہے میرے خیال میں کبھی کسی نے کسی کے موحد دنیا کامل ہونے کا ایسا حسین اور سچا نقشہ نہیں کھینچا یعنی خدا کی توحید میں محمد رسول اللہ کی توحید میں مدغم ہوگئی اور اس طرح آپ نے اپنی ذات کو خدا کی ذات کے ساتھ ہمر نگ کر دیا کہ خدا کی تمام صفات آپ ﷺ کی ذات میں جلوہ گر ہوئیں اور آپ کو چھوڑ کر دیگر صفات سے فیض پانا ایسا ہی ہے جیسا شیطان سے فیض پانا۔یہی وہ مضمون ہے جس کو قرآن کریم ایک دوسرے رنگ میں یوں بیان فرماتا ہے۔وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَى ( الانفال: ۱۸) پھر فرماتا ہے وہ جو بیعت کا مضمون ہے اِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللهَ يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (افتح ۱۰) محمد رسول اللہ نے جب وہ کنکریوں کی مٹھی کفار کی طرف پھینکی مَا رَمَيْتَ تو نے نہیں پھینکی وہ مٹھی تیری نہیں تھی إذْ رَمَيْتَ حالانکہ تو نے پھینکی تھی مگر وہ خدا کی مٹھی تھی۔وَلَكِنَّ اللهَ رَی اللہ نے وہ چلائی تھی۔پھر فرمایا یہ جو مومن تیری بیعت کر رہے ہیں تیری بیعت نہیں کر رہے، اللہ کی بیعت کر رہے ہیں۔تیرا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے لیکن يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ اللہ کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھ پر ہے۔کسی وجود کا متابعت میں، غلامی میں اپنے آقا سے کامل ادغام یہ بھی ایک توحید کا منظر پیش کرتا ہے۔غیر اللہ کی نفی تو انسان کرتا ہی ہے ہر وہ متحد کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اس کا آخری مقام یہ ہے کہ جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ اپنے وجود کی نفی کر دی جائے اور کلیہ اپنے وجود کو مٹا دیا جائے تا کہ صرف ایک ہی وجود، اللہ کا وجود باقی رہے۔یہ وہ مضمون ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں کہ محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ نے اپنے وجود کو کلیہ مٹاڈالا اور صرف خدا کا وجود باقی رہا۔آپ کو نظر انداز کر کے کسی اور سے فیض پانا ایسے ہی ہے جیسے خدا کے سوا خدا کے مقابل پر بنائے ہوئے جھوٹے بتوں سے فیض پانے کی کوشش کی جائے تبھی فرماتے ہیں: وو۔۔ازیت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیات کی کبھی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔(اپنے آپ کو فرماتے ہیں ) ہم کیا چیز ہیں اور