خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 698 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 698

خطبات طاہر جلد ۱۲ 698 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۹۳ء میں تھی اور یہ وہ محبت ہے جس کے نتیجے میں انسان کو عظیم قربانیوں کی تو فیق ملتی ہے ورنہ عام طور پر انسانی ہمدردی کا جذ بہ دوسری قوموں میں بھی آپ کو دکھائی دے گا لیکن جہاں ان لوگوں سے نفرت کا سلوک کیا جائے ، ان کے احسان کو قبول کرنے کی بجائے ان پر پتھر برسائے جائیں وہاں وہ سب محبتیں اٹھ جاتی ہیں اس کا کچھ بھی وجود باقی نہیں رہتا۔انسان پھر پتھر کا جواب پتھر سے دینے لگتا ہے، گالی کا جواب گالی سے دینے لگتا ہے مگر اگر محبت بنی نوع انسان کی منہ کی محبت نہ ہو بلکہ خدا کے وجہ کی محبت ہو، خدا کے چہرے کی محبت ہو اور خدا کی خاطر اس کی مخلوق سے محبت کی جائے تو وہ مخلوق جیسا بھی اس سے کسی محبت کرنے والے سے سلوک کرے اس کی محبت کا منہ نہ پھیر سکے، ناممکن ہو جاتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے جس درجے پر بنی نوع انسان سے ہمدردی کی ہے اور ان کی خاطر آپ ﷺ کی جان گداز ہوئی۔اس کی مثال آپ کو دنیا میں کہیں دکھائی نہیں دے گی کیونکہ اس شان سے اللہ تعالیٰ کی محبت رکھنے والا وجود اور کوئی پیدا نہ ہوا حالانکہ تمام انبیاء خدا ہی سے محبت کے نتیجے میں ایک نیا وجود پکڑتے ہیں اور تمام انبیاء کی محبت بنی نوع انسان سے خدا کے واسطے سے ہی ہوتی ہے۔اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں اس معاملے میں رسول اکرمی صلى الله مستی نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ نہیں فرمار ہے کہ صرف حضرت محمد رسول اللہ ہی ہے کو خدا کی خاطر بنی نوع انسان سے محبت ہوئی ، یہ فرمارہے ہیں کہ آپ کو خدا سے اتنی محبت ہوئی کہ خدا کی تمام مخلوق سے محبت ہو گئی جو کچھ خدا نے پیدا کیا ہے۔خدا کی محبت کا کرشمہ اس مخلوق سے بھی آپ کے دل میں جلوہ گر ہوا اور اس وجود کی محبت میں تبدیل ہوتا رہا۔یہ وہ مضمون ہے کہ اس پہلو سے دنیا میں آپ کو کہیں بھی کوئی اور نبی ایسا دکھائی نہیں دے گا اس کا ثبوت یہ ہے کہ جتنے دنیا کے انبیاء آئے ہیں وہ سب قو می بھی تھے اور زمانے کے لحاظ سے وقتی بھی تھے اور جتنا چاہیں آپ انبیاء کی براہ راست تعلیم میں تلاش کر کے دیکھ لیں تمام بنی نوع انسان کی محبت کا ذکر آپ کو وہاں نہیں ملے گا۔صرف حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺے ہیں جن کے ذکر میں قرآن کریم بار ہا یہ مضمون بیان فرماتا ہے کہ تمام مخلوقات سے آپ کا تعلق تھا، تمام بنی نوع انسان کے لئے آپ رحمت تھے، ہر ایک ذات کے لئے آپ کے دل میں رافت پائی جاتی تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو بلند دعاوی کرتے ہیں ساتھ ساتھ ان کے دلائل بھی