خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 3
خطبات طاہر جلد ۱۲ 3 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء یہ نیا سال تمام دنیا کو بحیثیت انسان مبارک کرے اور اس پہلو سے آگے چل کر میں جو تحریک کروں گا اس کا تعلق اس سال کو انسانی بہبود کا سال بنانے سے ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہر سال ہم ایک مطمح نظر اپنے سامنے رکھتے ہیں۔اس سال مطمح نظریہ رکھیں کہ انسان کو انسانیت کے آداب سکھائے جائیں اس سلسلہ میں میں انشاء اللہ چند ایک تجاویز بھی بعد میں آپ کے سامنے رکھوں گا۔ابھی گزشتہ سال کے آخر پر ایک عجیب نوع کا جو عالمگیر جلسہ ہوا تھا اس کے متعلق مختلف ممالک سے جماعت احمدیہ سے وابستہ دوستوں کے جذبات مجھ تک پہنچ رہے ہیں۔شروع شروع میں تو باقاعدہ ٹیلی فون یا فیکسز کے ذریعہ پیغام مل رہے تھے اب بھی پہنچنے شروع ہو گئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اس جلسے کا جو اثر احمد ی قلوب اور اذہان پر پڑا ہے۔وہ ہماری توقع سے بہت زیادہ بڑھ کر ہے۔اکثر لکھنے والوں نے یہ محاورہ استعمال کیا ہے کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے جو کیفیت ہے اور میں لکھ نہیں سکتا جو کیفیت ہے، میرے پاس الفاظ نہیں جن سے بیان کرسکوں، میں اپنی کیفیت ہی نہیں بلکہ اپنے سارے ماحول کی کیفیت بتارہا ہوں اور بعضوں نے لکھا کہ یہ صرف احمدیوں کا حال نہیں ہے جو غیر بھی ہمارے ساتھ شریک ہیں ان کے دلوں کی بھی یہی کیفیتیں ہیں۔چنانچہ انہوں نے جو بعض تاثرات بھیجے ہیں وہ حیرت انگیز ہیں۔اسی طرح قادیان سے آنے والے ایک دوست نے بتایا کہ جو سکھ، ہند و دوست جلسہ میں شریک تھے اور زیادہ تر سکھ تھے جب وہ مختلف مواقع پر قادیان کے مناظر دیکھتے تھے جن میں بعض دفعہ خودان کی تصویر میں بھی دکھائی دیتی تھیں تو بے اختیار ہو کر ان کی زبانوں سے نعرے بلند ہوتے تھے اور جب جماعت نعرے لگارہی ہوتی تھی تو وہ بھی شامل ہو جایا کرتے تھے اور یہ کیفیت ساری دنیا میں ایک ہی طرح سے ایک ہی وقت میں رونما ہورہی تھی اگر چہ ساری دنیا میں اس وقت الگ الگ وقت تھے یعنی ایک لمحہ میں جو آواز اٹھ رہی تھی وہ چوبیس گھنٹے پر پھیلے ہوئے لمحوں کی آواز بن گئی۔کہیں یہ آدھی رات کی آواز تھی، کہیں صبح سویرے کی آواز تھی، کہیں تہجد کے وقت کی آواز تھی ، کہیں شفق صبح کی آواز بن گئی تھی ، کہیں شفق شام کی آواز بن گئی تھی، کہیں جھٹپٹے کی آواز تھی گویا کہ چوبیس گھنٹے میں زمین کے گول ہونے اور اس کے چکر لگانے کی بنا پر جتنے لمحے ہیں اس ایک لمحے کی آواز بیک وقت چوبیس گھنٹوں کے ہر لمحے کی آواز بن رہی تھی اور اس کیفیت کا ایک غیر معمولی اثر