خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 2
خطبات طاہر جلد ۱۲ 2 خطبہ جمعہ ارجنوری ۱۹۹۳ء طرح تمام انسانیت کے لئے میرے دل میں فلاح و بہبود کے جو جذبات ہیں اور جو نیک خواہشات ان سے وابستہ رکھتا ہوں اس پہلو سے تمام دنیا کے انسانوں کو خواہ ان کا کوئی بھی مذہب ہو کوئی بھی رنگ ہو، کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں کسی مذہب کے ماننے والے ہوں، میں دل کی گہرائی سے نکلی ہوئی مبارک باد پیش کرتا ہوں جو تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے ہے صرف میری طرف سے ہی نہیں۔میں نے مبارک باد کے اس مضمون پر جہاں تک غور کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ اس بھری دنیا میں جہاں اربوں لوگ آباد ہیں سب سے زیادہ احمدی دل ہیں جو حقیقت میں بنی نوع انسان کے بہی خواہ ہیں اور واقعۂ دل کی گہرائی سے ان کی خیر چاہتے ہیں ورنہ اکثر لوگ تو اپنے محدود دائروں سے وابستہ ہوکر رہ گئے ہیں۔ایک مسلمان زیادہ سے زیادہ سوچے گا تو اسلام کی بہبود کی سوچتا ہے یا ایک پاکستانی پاکستان کی بہبود کی سوچتا ہے۔انگلستان میں بسنے والا ایک انگریز انگلستان کی بہبود کی سوچتا ہے اور شاید ہی کوئی دل ایسا ہو جس کی گہرائی سے کل عالم اسلام کی خیر خواہی کی دعائیں اٹھتی ہوں اور جہاں تک میر اعلم ہے تمام احمدی جو تمام دنیا میں ، مشرق و مغرب میں تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے ہیں انہوں نے اپنا دستور بنا رکھا ہے کہ وہ نظام جماعت کے لئے یا خلیفہ وقت کے لئے ، اپنے عزیزوں اور پیاروں کے لئے جہاں دعا کرتے ہیں وہاں انسانیت کو بحیثیت انسانیت پیش نظر رکھتے ہوئے کل عالم کے انسانوں کے لئے ضرور دعا کرتے ہیں۔یہ میرا ایک جائزہ ہے جو مختلف احمدیوں کے خطوط سے مترتب ہوتا ہے اور ویسے بھی اپنے دل کی کیفیت سے میں یہی اندازہ کرتا ہوں کیونکہ میرے اور جماعت کے دل کے دھڑ کنے کے انداز ایک ہیں ایک ہی نہج پر ہم سوچتے ہیں۔ایک ہی طرز پر محسوس کرتے ہیں۔اس لئے جو میری کیفیات ہیں وہ سب جماعت کی ہوں گی اور ایسا ہے بھی کیونکہ خط لکھنے والے تو کم ہیں جو لکھتے ہیں مگر جو لکھتے ہیں وہ نمونے بھیج دیتے ہیں، وہ بتا دیتے ہیں کہ نجی میں بھی ایسے ہی احمدی بستے ہیں جیسے نائیجیریا، یا سیرالیون میں یا غا نا میں یا امریکہ میں یا انگلستان میں یا جرمنی میں ،غرضیکہ احمدی خط جہاں سے بھی ملتے ہیں ان کی ادائیں ایک ہوتی ہیں۔پس احمدی مزاج ایک بین الاقوامی مزاج بن چکا ہے اور انسانیت کی بھلائی چاہنا، انسانیت کی بہبود چاہنا اس بین الاقوامی مزاج کی سرشت میں داخل ہے، اس میں کوئی بناوٹ نہیں، کوئی تصنع ، کوئی تکلف نہیں ، جس جماعت کو یہ بین الاقوامی مزاج نصیب ہوگا اس مزاج سے از خود تمام عالم کے لئے دعائیں پھوٹیں گی۔پس اللہ تعالیٰ