خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 695
خطبات طاہر جلد ۱۲ 695 خطبه جمعه ۱۰ستمبر ۱۹۹۳ء کر کے دکھا دینا اور زمانی لحاظ سے بھی خدا کی توحید ثابت کرنا اور مکانی کے لحاظ سے بھی یعنی مکان کی وسعتوں میں خدائے واحد کو واحد خدا کے طور پر دکھانا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ عرض کرتے ہیں: یہ کام ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی امیہ نے جس شان سے کر کے دکھایا ہے اس سے پہلے کبھی کسی نبی کو ایسی توفیق نہیں ملی پھر فرماتے ہیں۔میں ہمیشہ تعجب کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے ہزار ہزار درود اور سلام اس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ تو حید جودنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجے پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی ، اس لئے خدا نے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا۔اس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مراد میں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔وہ انسان نہیں بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اس کو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعے سے نہیں پاتا وہ محرومِ ازلی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے ، ہم کافر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبیلہ کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے۔خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے میسر آیا ہے۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۱۸ تا ۱۱۹)