خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 692 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 692

خطبات طاہر جلد ۱۲ 692 خطبه جمعه ۱۰ استمبر ۱۹۹۳ء اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کر کے کھلے کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں ۔ ( براہین احمدیہ۔ روحانی خزائن جلد اول صفحہ : ۱۱۱-۱۱۲) ئے۔ یہاں توقف اور اس قدر دشمن“ جو لفظ ہے یہ شائد آپ میں سے بعضوں کو سمجھ نہ آئے۔ یہ کریں گے تو مضمون کی سمجھ آئے گی۔ آنحضرت ﷺ کے اس قدر دشمن، چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔ پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں یعنی انبیاء پر نظر ڈال کر دیکھیں اس درجہ دشمنی کسی نبی کی نہیں کی گئی تھی۔ اس قدر دشمنوں نے کسی نبی کو نہیں گھیرا جیسا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ علہ دشمنوں کے نرنے میں تھے اور پھر ایسی ثابت قدمی اور ایسا استقلال دکھلانے والا نبی آپ کی اس شان کا اور کوئی دکھائی نہیں دے گا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس مقدس نبی کے وعظ اور تعلیم نے ہزاروں مردوں میں توحید کی روح پھونک دی اور دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک ہزاروں انسانوں کو موحد نہ بنا لیا۔۔۔“ یہ پہلو خاص طور پر جماعت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ انسان کی توحید کا ایک ظاہری نشان یہ ہے کہ اس کی توحید اس کے سینے میں بند نہ رہے بلکہ اپنے ماحول کو موحد بنانے لگے حقیقی موحد وہ ہے جس کی توحید کا نور ارد گرد پھیلتا ہے جس کے قرب و جوار میں دوسرے موحد پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں، پس اگر آپ یہ کہیں کہ ہم موحد ہو چکے ہیں، خدا کے سوا ہم کسی اور کے سامنے سر نہیں جھکاتے ، خدا کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔ مگر آپ کی توحید آپ کے سینوں میں بند رہے، آپ کی بیوی بھی موحد نہ بن سکے، آپ کے بچے بھی موحد نہ بن سکیں۔ آپ کے گرد و پیش ماحول میں اس توحید کا کوئی جلوہ دوسروں کو توحید سے متاثر نہ کر سکے تو پھر آپ کی توحید وہ توحید نہیں ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی تو حد تھی جس کی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے ہیں : وس صلى الله