خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 692
خطبات طاہر جلد ۱۲ 692 خطبه جمعه ۱۰ستمبر ۱۹۹۳ء اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعات خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کر کے کھلے کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اوّل صفحہ ۱۱۱-۱۱۲) اور اس قدر دشمن جولفظ ہے یہ شائد آپ میں سے بعضوں کو سمجھ نہ آئے۔یہاں تو قف کریں گے تو مضمون کی سمجھ آئے گی۔آنحضرت ﷺ کے اس قدر دشمن، چاروں طرف سے دشمنوں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں یعنی انبیاء پر نظر ڈال کر دیکھیں اس درجہ دشمنی کسی نبی کی نہیں کی گئی تھی۔اس قدر دشمنوں نے کسی نبی کو نہیں گھیر اجیسا کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ علے دشمنوں کے نرغے میں تھے اور پھر ایسی ثابت قدمی اور ایسا استقلال دکھلانے والا نبی آپ کی اس شان کا اور کوئی دکھائی نہیں دے گا۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اس مقدس نبی کے وعظ اور تعلیم نے ہزاروں مردوں میں توحید کی روح پھونک دی اور دنیا سے کوچ نہ کیا جب تک ہزاروں انسانوں کو موحد نہ بنا لیا۔۔۔یہ پہلو خاص طور پر جماعت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ انسان کی توحید کا ایک ظاہری نشان یہ ہے کہ اس کی تو حید اس کے سینے میں بند نہ رہے بلکہ اپنے ماحول کو موحد بنانے لگے حقیقی موحد وہ ہے جس کی توحید کا نور اردگرد پھیلتا ہے جس کے قرب و جوار میں دوسرے موحد پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں، پس اگر آپ یہ کہیں کہ ہم موحد ہو چکے ہیں، خدا کے سوا ہم کسی اور کے سامنے سر نہیں جھکاتے ، خدا کا کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔مگر آپ کی تو حید آپ کے سینوں میں بند رہے، آپ کی بیوی بھی موحد نہ بن سکے، آپ کے بچے بھی موحد نہ بن سکیں۔آپ کے گرد و پیش ماحول میں اس تو حید کا کوئی جلوہ دوسروں کو توحید سے متاثر نہ کر سکے تو پھر آپ کی توحید وہ تو حید نہیں ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی توحید تھی جس کی تعریف میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ فرماتے ہیں: