خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 689
خطبات طاہر جلد ۱۲ 689 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۹۳ء ہے اور جو جلوے دکھاتی ہے، یہ مضمون حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کو سمجھنے ہی سے انسان پر روشن ہوسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: در محضرت اعلی درجہ کے یکرنگ اور صاف باطن۔۔۔“ یکرنگ کا جو لفظ ہے یہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان ایک خدا کا قائل ہو اور سچے دل سے قائل ہو اور اس کے اندر دورنگی پائی جائے۔دورنگی تو حید کی نفی ہے۔دورنگی شرک کا مظہر ہے۔اگر ایک خدا کا انسان قائل ہو اور ایک ہی خدا کی عبادت کرنے والا ہو اور کامل خلوص کے ساتھ ایک خدا کی چوکھٹ پر سر جھکانے والا ہو۔اس کی فطرت سے دور نگی غائب ہو جاتی ہے۔پاک صاف یک رنگ انسان ایک نئے وجود کے طور پر ابھرتا ہے اور یہ وہ آنحضرت ﷺ کی غیر معمولی شان کے ساتھ چپکنے والی صفت تھی جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو حید کے بیان میں سب سے پہلے رکھا۔آنحضرت یہ اعلی درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن تھے۔یادرکھیں صاف باطنی یک رنگی سے عطا ہوتی ہے جو یک رنگ نہ ہو اس کا باطن صاف نہیں ہوسکتا کیونکہ یک رنگی اس وقت نصیب ہوتی ہے۔جب انسان جو کچھ ظاہر ہے اس کے مطابق دل میں رکھے، جو کچھ دل میں ہے اسی کے مطابق ظاہر کرے اور اس کے وجود میں سے تفرقہ مٹ جائے یعنی اپنی ذات کا تفرقہ مٹ جائے جو نظر آنے والا وجود ہے وہی باطن میں چھپا ہوا وجود بن جائے۔جب یہ بات نصیب ہو جائے تو اس کے نتیجے میں دل پاک وصاف ہو جاتا ہے۔کوئی کسی قسم کا خدشہ کسی سے نہیں رہتا۔کوئی ایسی چیز نہیں رہتی جسے انسان ظاہر کرتے ہوئے شرما جائے اور یہ جو شرم کا ختم ہونا ہے۔یہ اپنی ذات میں ایک حسین صفت بن جاتا ہے، شرم ہر لحاظ سے بہت ہی اعلیٰ درجے کا خلق ہے لیکن اگر انسان بدی کو چھپانے کے لئے شرم کرے تو خلق تو پھر رہے گی لیکن پاک باطنی عطا ہو نہیں سکتی۔پس اس مضمون کو مزید کھولنے کی ضرورت ہے۔حضرت اقدس محمد مصطفی حلیہ کی شرم دورنگی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ یک رنگی کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونے کے نتیجے میں تھی آپ کی ایک رنگی نے آپ کو خدا سے ہمکنار کر دیا اور اپنی صفات حسنہ کو دوسروں سے چھپانے کے لئے آپ نے اپنی صفات حسنہ پر پردے ڈالے ہیں۔یہ حیا کے پردے تھے اور دورنگی کے مظہر نہیں تھے۔