خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 689 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 689

خطبات طاہر جلد ۱۲ 689 خطبه جمعه ۱۰ استمبر ۱۹۹۳ء صلى الله علیه ہے اور جو جلوے دکھاتی ہے ، یہ مضمون حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سیرت کو سمجھنے ہی سے انسان پر روشن ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: صلى نحضرت ا اعلیٰ درجہ کے یکرنگ اور صاف باطن۔۔۔“ یکرنگ کا جو لفظ ہے یہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ انسان ایک خدا کا قائل ہو اور سچے دل سے قائل ہو اور اس کے اندر دو رنگی پائی جائے ۔ دو رنگی توحید کی نفی ہے ۔ دورنگی شرک کا مظہر ہے۔ اگر ایک خدا کا انسان قائل ہو اور ایک ہی خدا کی عبادت کرنے والا ہو اور کامل خلوص کے ساتھ ایک خدا کی چوکھٹ پر سر جھکانے والا ہو۔ اس کی فطرت سے دورنگی غائب ہو جاتی ہے۔ پاک صاف یک رنگ انسان ایک نئے وجود کے طور پر ابھرتا ہے اور یہ وہ آنحضرت ﷺ کی غیر معمولی عروسه شان کے ساتھ چپکنے والی صفت تھی جس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توحید کے بیان میں سب سے۔ پہلے رکھا۔ صلى الله آنحضرت اعلیٰ درجہ کے یک رنگ اور صاف باطن تھے۔ یا د رکھیں صاف باطنی یک رنگی سے عطا ہوتی ہے جو یک رنگ نہ ہو اس کا باطن صاف نہیں ہو سکتا کیونکہ یک رنگی اس وقت نصیب ہوتی ہے۔ جب انسان جو کچھ ظاہر ہے اس کے مطابق دل میں رکھے، جو کچھ دل میں ہے اسی کے مطابق ظاہر کرے اور اس کے وجود میں سے تفرقہ مٹ جائے یعنی اپنی ذات کا تفرقہ مٹ جائے جو نظر آنے والا وجود ہے وہی باطن میں چھپا ہوا وجود بن جائے۔ جب یہ بات نصیب ہو جائے تو اس کے نتیجے میں دل پاک وصاف ہو جاتا ہے۔ کوئی کسی قسم کا خدشہ کسی سے نہیں رہتا۔ کوئی ایسی چیز نہیں رہتی جسے انسان ظاہر کرتے ہوئے شرما جائے اور یہ جو شرم کا ختم ہونا ہے۔ یہ اپنی ذات میں ایک حسین صفت بن جاتا ہے، شرم ہر لحاظ سے بہت ہی اعلیٰ درجے کا خلق ہے لیکن اگر انسان بدی کو چھپانے کے لئے شرم کرے تو خلق تو پھر رہے گی لیکن پاک باطنی عطا ہو نہیں سکتی۔ پس اس مضمون کو مزید بلکه یک رنگی صلى الله عروسة کھولنے کی ضرورت ہے۔ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی شرم دو رنگی کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ با کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونے کے نتیجے میں تھی آپ کی یک رنگی نے آپ کو خدا سے ہمکنار کر دیا اور اپنی صفات حسنہ کو دوسروں سے چھپانے کے لئے آپ نے اپنی صفات حسنہ پر پردے ڈالے ہیں۔ یہ حیا کے پردے تھے اور دورنگی کے مظہر نہیں تھے۔