خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 682
خطبات طاہر جلد ۱۲ 682 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء اسی قدر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے کمزور پڑ چکا ہے۔اس تعلق کو مضبوط کرنا ضروری ہے کیونکہ اس دنیا کے فیض رساں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بنایا گیا ہے اور جتنا آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزاج کے قریب ہوں جتنا آپ کے جذبات کو اپنا ئیں اسی قدر آپ دنیا کے فیض رساں بن سکتے ہیں۔پس فرماتے ہیں و میں کبھی کا اس غم سے فنا ہوجاتا۔اگر میرامولا اور میرا قادروتو انا خدا مجھے تسلی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔“ دوسرا پیغام آپ کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری ہے کہ آپ کے ذریعے تو حید کو مغرب میں فتح نصیب ہوگی۔یہ مقدر ہو چکا ہے۔غم لگانے کی دیر ہے، فکر کرنے کی دیر ہے۔سچا غم لگا ئیں تو خدا تعالیٰ ساتھ ہی خوشخبری دے رہا ہے کہ تو حید کا سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔یہ بھی طلوع ہو گا کہ آپ کے دلوں سے اٹھنا شروع ہو اور اپنے ماحول کو جگمگانے لگے۔یہ وہ سورج ہے جو ہر دل سے اٹھ سکتا ہے۔یہ کوئی ایسا سورج نہیں ہے جو بظاہر باہر سے چمکتا ہے۔یہ دلوں سے اٹھنے والا سورج ہے اور جس کے دل سے توحید کا سورج اٹھے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری دی گئی ہے کہ مغرب میں بسنے والے احمدیوں کے دل سے جب تو حید کا سورج اٹھے گا۔تو مقدر ہے کہ وہ اپنے ماحول کو توحید سے روشن کر دے۔پس بہت بڑی خوشخبری ہے اس لئے عیسائیت کے غلبے سے مایوس ہونے کا کوئی مقام نہیں ہے۔یہ ویسا ہی ہے جیسے غار ثور میں حضرت اقدس محمد رسول الله الا اللہ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا تھا لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام آپ کو مغرب کے اندھیروں میں یہ خوشخبری دے رہے ہیں کہ ہرگز فکر نہ کرنا۔خدا ہمارے ساتھ ہے اور ضرور مغرب سے توحید کا سورج طلوع ہو گا اور تمام دنیا کو منور کرے گا۔اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ بعید نہیں کہ اہل مغرب اہل مشرق کے مقابل پر جلد تر تو حید کے غلام بن جائیں اور توحید کے عاشق ہو جائیں اور چونکہ دنیاوی لحاظ سے ان قوموں کو خدا تعالیٰ نے بہت سی عظمتیں بخشی ہیں ، بہت سی ایسی صلاحیتیں ہیں جن کو انہوں نے اپنی محنت سے صیقل کر لیا ہے کہ جب یہ موحد بن جائیں گے تو پھر لازماً تمام دنیا پر تو حید اس طرح یورش کرے گی کہ جیسے چڑھتا ہوا سورج تمام دنیا پر غالب آجایا کرتا ہے۔