خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 681 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 681

خطبات طاہر جلد ۱۲ فرماتے ہیں۔681 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔“ مغربی ممالک میں جو عیسائی ممالک ہیں۔ان میں بسنے والے احمدیوں کے لئے یہ پیغام بہت غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر دم اس فکر میں تھے اگر آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق رکھتے ہیں۔تو آپ کیوں اس فکر میں غلطان نہیں رہتے ؟ فرماتے ہیں: میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاریٰ کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔میرا دل مردہ پرستی کے فتنے سے خون ہوتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے۔۔۔66 اب یہ جو فقرہ ہے، کوئی شریف النفس انسان اس کو پڑھ کر جھوٹے کا فقرہ قرار نہیں دے سکتا۔عجیب اس میں صداقت کی طاقت ہے کیسا گہرا درد ہے فرماتے ہیں: "۔۔۔میری جان عجیب تنگی میں ہے۔اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مشتِ خاک کو رَبِّ الْعَلَمِینَ سمجھا گیا ہے۔میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولا اور میرا قادر و توانا خدا مجھے تسلّی نہ دیتا کہ آخر توحید کی فتح ہے۔۔۔وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا۔۔۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۷ ) جہاں پہلی نصیحت میں آپ کے لئے لمحہ فکر یہ ہے اور اپنے دلوں کو ٹولنے کا ایک موقع ہے آپ کو چاہئے کہ اپنے دلوں کو ٹول کر دیکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس فکر سے کیا آپ نے بھی حصہ پایا ہے۔کیا آپ کی جان بھی اس طرح سنگی محسوس کرتی ہے۔ہر طرف اپنے ماحول میں، اپنے گرد و پیش ایسے لوگوں کو دیکھتے ہوئے جن کے دلوں میں ایک عام انسان خدا کے ایک عاجز بندے کو خدا بنا کر دکھا دیا گیا اور عیسائیت نے یہ ظلم کیا ہے۔خدا کے بندوں کے دلوں میں خدا کا ایک اور بندہ بٹھا دیا ہے کہ یہی تمہارا خدا ہے اور عاجز انسان کو رب العالمین بنا دیا گیا ہے۔اگر آپ کے دلوں میں اس سے کوئی تنگی محسوس نہیں ہوتی۔کوئی غم اور فکر آپ کی جان کو کھانے نہیں لگتا تو آپ کا تعلق