خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 680
خطبات طاہر جلد ۱۲ 680 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء رگ رگ میں پیوستہ تھیں۔آپ کی صفات حسنہ قرآن ہی کی صفات کا دوسرا جلوہ تھا۔پس ایک چھوٹے سے لفظ کے استعمال سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کتنا گہرا مضمون بیان فرما دیتے ہیں۔تبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ”جوشخص میری تحریرات کو تین دفعہ نہیں پڑھتا اس میں مخفی تکبر پایا جاتا ہے (سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ ۳۶۵) یعنی اتنی توجہ نہیں دیتا، اتنا مرتبہ نہیں ان کا سمجھتا ، اس میں مخفی تکبر پایا جاتا ہے۔مراد یہ ہے کہ تم ایک دو دفعہ پڑھ کے دیکھ لو تمہیں بہت سی باتیں نہیں سمجھ آئیں گی۔پھر پڑھو، پھر پڑھو اور غور سے پڑھو۔ٹھہر ٹھہر کر تب تمہیں سمجھ آئے گی میں کہنا کیا چاہتا ہوں۔فرمایا: قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت میں آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا اس نے دنیا کو اندھا پایا اور روشنی بخشی۔۔66 اب یہاں لفظ ”اس“ جو ہے یہ دونوں طرف جا رہا ہے۔قرآن کی طرف بھی اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی طرف بھی۔”۔۔۔اس نے دنیا کو اندھا پایا اور روشنی بخشی اور گمراہ پایا اور ہدایت دی اور مردہ پایا اور جان عطا فرمائی۔۔۔“ یہ تمام وہ باتیں ہیں جو قرآن کریم نے ، قرآن کریم کی طرف بھی منسوب فرمائی ہیں اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ کی طرف بھی منسوب فرمائی ہیں۔پس ایک چھوٹا سا لفظ بھی یعنی بیچ میں ایک لفظ کو دوسرے لفظ سے بدل کر فقرے میں ضمیر کو اس طرح پھیر دیا ہے کہ دونوں طرف برابر چسپاں ہوتی ہے۔فرماتے ہیں۔وو۔۔۔تو کیا ابھی ضرورت ثابت ہونے میں کسر رہ گئی اور اگر یہ کہو کہ تو حید تو پہلے بھی موجود تھی۔قرآن نے نئی چیز کون سی دی ؟ تو اس سے اور بھی تمہاری عقل پر رونا آتا ہے۔میں ابھی لکھ چکا ہوں کہ توحید پہلی کتابوں میں ناقص طور پر تھی اور تم ہرگز ثابت نہیں کر سکتے کہ کامل تھی۔۔۔“ 66 (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۵۶) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام توحید کے ساتھ اپنے تعلق کو ان لفظوں میں ظاہر