خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 679 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 679

خطبات طاہر جلد ۱۲ 679 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء کو رؤف بھی خدا تعالیٰ نے قرار دے دیا ، رحیم بھی قرار دے دیا۔مگر رب قرار نہیں دیا کیونکہ حقیقی ربوبیت خدا کے سوا کسی کو نصیب نہیں۔اسی طرح الوہیت بھی ایک صفت تنزیہی ہے ایسی صفت ہے جس میں اور کوئی شریک نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ دوصفات ہیں، جن کو خاص طور پر توحید کے ذکر میں چنا ہے۔فرماتے ہیں یعنی کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات بجز ذات باری کسی میں قرار نہ دینا اور جو بظاہر رب الانواع یا فیض رساں نظر آتے ہیں۔وہ لوگ جن سے انسان کے ذرائع معاش وابستہ ہیں جو دیکھنے میں کوئی احسان کرنے والے وجود دکھائی دیتے ہیں۔یہ یقین رکھنا کہ یہ اسی کے ہاتھ کا ایک نظام ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔خدا تعالیٰ نے تم تک فیض پہنچانے کے ذریعے بنا رکھے ہیں۔اپنی ذات میں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔"۔۔۔تیسرے اپنی محبت اور صدق اور صفا کے لحاظ سے توحید یعنی محبت وغیرہ شعار عبودیت میں دوسرے کو خدا تعالیٰ کا شریک نہ گرداننا اور اسی میں کھوئے جانا۔“ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۴۹_۳۵۰) اس کی تفصیل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف جگہ قرآن یا آنحضرت ﷺ کے حوالے سے پیش فرمائی ہے۔فرماتے ہیں۔”اے غافلو اور دلوں کے اندھو! قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت میں آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا۔۔۔“ (سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۵۶) اب یہاں یہ فقرہ قابل غور ہے اور بہت ہی پر لطف ہے۔انبیاء کا ذکر نہیں فرمایا قرآن کا ذکر فرمایا ہے۔فرماتے ہیں اے غافلو اور دلوں کے اندھو! قرآن جیسے ضلالت کے طوفان کے وقت میں آیا ہے کوئی نبی ایسے وقت میں نہیں آیا ، یعنی در اصل حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ اور قرآن کو ایک ہی چیز کے دو نام قرار دے دیا۔ایک وہ قرآن ہے جو پیغام الہی کی صورت میں ہے ، ایک وہ قرآن ہے جو آنحضرت میلہ کی اس ذات کی صورت میں ہے جو مجسم پیغام الہی ہے یعنی تمام قرآن کی صفات آنحضرت ﷺ کے دل میں دھڑکتی تھیں، آپ کے خون میں جاری تھیں، آپ کی