خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 674 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 674

خطبات طاہر جلد ۱۲ 674 خطبه جمعه ۳ ستمبر ۱۹۹۳ء۔۔۔آتش پرست اور ستارہ پرست بھی ناراض ہو گئے کیونکہ ان کو بھی ان کے دیوتوں کی پرستش سے ممانعت کی گئی اور مدار نجات کا صرف توحید ٹھہرائی گئی۔(براہین احمدیہ حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۰۹) پھر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”ہمارے نبی ﷺ اظہار سچائی کے لئے ایک مسجد داعظم تھے جو گم گشتہ سچائی کو دوبارہ دنیا میں لائے۔اس فخر میں ہمارے نبی ﷺ کے ساتھ کوئی بھی نبی شریک نہیں کہ آپ نے تمام دنیا کو ایک تاریکی میں پایا اور پھر آپ کے ظہور سے وہ تاریکی نور سے بدل گئی۔جس قوم میں آپ ظاہر ہوئے۔آپ فوت نہ ہوئے جب تک اس تمام قوم نے شرک کا چولہ اتار کر تو حید کا جامہ نہ پہن لیا۔“ (لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۲۰۶) پھر فرماتے ہیں:۔یاد رہے کہ حقیقی تو حید جس کا اقرار خدا ہم سے چاہتا ہے اور جس کے اقرار سے نجات وابستہ ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر وفریب ہو (اس سے) منزہ سمجھنا۔۔۔“ یہ سب بت ہیں غیر اللہ کے مظاہر ہیں۔ان سب سے پر ہیز کے بغیر، ان سب سے قطع تعلقی کے بغیر سچی تو حید نصیب نہیں ہوسکتی۔چنانچہ غور سے اس کو پھر سنئے۔ہر ایک شریک سے خواہ بت ہو، خواہ انسان ہو، خواہ سورج ہو یا چاند ہو یا اپنا نفس یا اپنی تدبیر اور مکر وفریب ہو منزہ سمجھنا اور اس کے مقابل پر کوئی قادر تجویز نہ کرنا ( یعنی خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور کو قادر تجویز نہ کرنا) کوئی رازق نہ ماننا ( یہ یقین رکھنا کہ رزق اسی سے عطا ہوتا ہے اور وہی بہتر اور پاک رزق ہے جو خدا عطا کرتا ہے ) کوئی معر اور کوئی مذلت خیال نہ کرنا۔( یہ نہ سمجھنا کہ کوئی غیر اللہ ہماری عزت لوٹا سکتا ہے یا کوئی غیر اللہ ہمیں ذلیل کر سکتا ہے۔) کوئی ناصر