خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 63
خطبات طاہر جلد ۱۲ 63 خطبه جمعه ۲۲ / جنوری ۱۹۹۳ء کے شوق نے حقیقت سے غافل کر دیا ہے اور نتیجہ کیا ہے؟ فرمایا: حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ یہاں تک کہ تم مقبروں تک پہنچ گئے ہو۔یہ آیت بڑی فصاحت و بلاغت کا مرقع ہے۔ویسے تو سارا کلام الہی فصاحت و بلاغت کا مرقع ہے لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا۔بعض دفعہ جیسا کہ خدا نے دنیا میں خوبصورت پہاڑ بنائے ہیں ایک چوٹی سے بڑھ کر دوسری چوٹی آجاتی ہے اور اس سے بڑھ کر ایک اور چوٹی دکھائی دیتی ہے پس کلام الہی کی سیر کے وقت ایسے ہی مناظر دکھائی دیتے ہیں ایک سے ایک بڑھ کر ارفع آیت اپنا حسن دکھاتی ہے۔یا یوں کہنا چاہئے کہ ہمیں بعض بلندیوں کا شعور عطا ہوتا ہے تو اچانک ایک آیت عام سطح سے اٹھ کر بلند ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔سب آیات الہی میں رفعتیں ہیں لیکن ان رفعتوں کو سمجھنے کی استطاعت سب آنکھوں کو نہیں اور جن کو ہے ان کو ہر حال میں وہ رفعتیں سمجھنے کی استطاعت نہیں تھی اس لئے جب یہ کہا جاتا ہے۔کہ اس آیت میں غیر معمولی رفعت پائی جاتی ہے تو نعوذ باللہ یہ مطلب نہیں کہ کلام الہی میں دوسری آیات ادنی درجہ کی ہیں بلکہ بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں بعض کیفیات ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں ان آیات کا جب مطالعہ کیا جائے تو نئی شان اور نئی رفعت کے ساتھ وہ ہمارے سامنے نمودار ہوتی ہے پس اس مضمون پر غور کرتے ہوئے جب اس آیت پر میری نظر پڑی تو میں سمجھا بلکہ یقین ہوا کہ یہ آیت آج کل کے حالات پر ہی خوب چسپاں ہو رہی ہے یہ نہیں فرمایا کہ اے انسان تو قبر تک جا پہنچے گا۔فرمایا اے طاقتو ! تم مقابر تک جا پہنچو گی یعنی ایک ملک میں ایک قبر یا ایک قبرستان کی بات نہیں یہ تو ہر براعظم میں بعض مقابر بننے والے ہیں اور ان بڑی بڑی طاقتوں کو جب خدا کی سزازمین کے ساتھ ہموار کر دے گی اور ان کے تکبر تو ڑ کر پارہ پارہ کرے گی تو ان کے مقابر بھی تمام عالم میں بکھرے ہوئے دکھائی دیں گے کیونکہ یہ خدا کے بندوں کو جہاں جہاں غلام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ غلام بنا کر اس وقت تعلی کی خاص کیفیت میں مبتلا ہیں۔ہر ایسے ملک میں ان کا بد انجام دیکھا جائے گا اور تمام ایسے ممالک میں تکبرات کے مقابر بننے والے ہیں۔یہ ایک ایسی پیشگوئی ہے جس کا تعلق کسی مسلمان کے انتقامی جذبہ سے نہیں کسی نفرت سے نہیں بلکہ مسلمان کو ان تمام مظالم کے باوجودا گر وہ حضرت محمد رسول اللہ یہ کا سا غلام ہے تو تمام عالم کے لئے رحمت ہی بننا ہے اور رحمت کے جذبات لے کر ہی دنیا میں نکلنا ہے لیکن جب رحمتوں کو دھتکار دیا جائے ، جب محبت کا جواب نفرت سے دیا جائے تو یہ آسمان کے خدا کے فیصلے ہیں کہ ان نفرتوں کے