خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 648
خطبات طاہر جلد ۱۲ 648 خطبه جمعه ۲۷ را گست ۱۹۹۳ء اٹھے اور آئندہ بھی اٹھنے کا احتمال رہتا ہے اور اس مضمون کا گہرا تعلق خلافت یعنی آیت استخلاف سے ہے اور حقیقت میں اسی کی یہ تصویر ہے۔اہلِ پیغام جنہوں نے خلافت سے اپنا تعلق تو ڑا انہوں نے یہ عذر رکھا تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انجمن کے حق میں وصیت کر دی ہے۔انجمن کو خود قائم فرما دیا اور انتظامی امور اور دوسرے تمام امور میں جماعت کی سر براہ اب ہمیشہ کے لئے صدر انجمن احمد یہ ہوگی یہ وہ فتنہ اٹھنا تھا جس کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیشہ کے لئے قلع قمع فرما دیا۔جب اس عبارت کو غور سے دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کے بعد خلافت کے سوا اور کسی انجمن کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔اگر انجمن مراد ہوتی تو انجمن تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی زندگی میں قائم فرما دی تھی۔یہ کیوں فرما رہے ہیں کہ اس قدرت ثانیہ کا آنا تقاضا کرتا ہے کہ پہلے میں جاؤں، میرے ہوتے ہوئے وہ قدرت ظاہر نہیں ہوگی۔پس صاف پتا چلا کہ وہ قدرت ثانیہ انجمن نہیں بلکہ کچھ اور اللہ تعالیٰ کے تائید یافتہ وجود ہیں جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قائمقامی اور غلامی میں کھڑے ہوں گے۔پس پہلی تفسیر حضرت خلیفہ مسیح الا قول رضی اللہ عنہ کی ذات میں مجسم ہوئی۔وہ خلافت اولی تھی جس کے اوپر ساری جماعت کو باندھ کر اکٹھا کر دیا گیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ عنہ نے ایک موقع پر انجمن کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تمہاری اب کیا حیثیت ہے۔تم میرے سامنے کوئی باتیں نہ کرو۔خدا نے تمہیں باندھ کر میرے غلامی میں لا ڈالا ہے اور ہمیشہ کے لئے میرا مطیع کر دیا ہے۔پس یہ وہ قدرت ثانی تھی جس کا وعدہ دیا جار ہا تھا جو سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد آنی تھی اس سے پہلے نہیں۔ایک یہ بعض دفعہ حیلہ تلاش کیا جاتا رہا ہے کہ قدرت سے مراد تائید الہی ہے جو قیامت تک جماعت کے ساتھ رہے گی تو اس کا بھی وہی جواب ہے کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تک تائید الہی نے قادیان میں جھانک کے بھی نہیں دیکھا تھا؟ کیا یہ لازم کر دیا تھا اللہ تعالی نے کہ جب تک مسیح موعود دنیا سے رخصت نہ ہو تب تک تائید الہی نہیں آئے گی؟ پس یہ ایسا جاہلا نہ خیال ہے کہ اس سے بڑھ کر جاہلانہ خیال اور کافرانہ خیال ممکن نہیں کہ جس کو خدا امام مقر ر فرما دے انتظار کرے کہ وہ مر جائے تو پھر تائید الہی ظاہر ہو جو قیامت تک رہے۔پس یہاں ایک نظام مراد ہے جس نظام کے مظہر مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میری طرح بعض وجود ہوں گے اور یہی وہ نظام خلافت ہے