خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 641 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 641

خطبات طاہر جلد ۱۲ 641 خطبه جمعه ۲۰ راگست ۱۹۹۳ء نہیں ہوتا، کوئی انتقام کا جذبہ کارفرما نہیں ہوتا، کوئی غصے سے بے قابو ہونے کی حالت اس کی ذمہ دار نہیں ہوتی بلکہ بڑے اطمینان سے انسان سمجھتا ہے کہ مجھے یہ کہنا پڑے گا اور جانتا ہے کہ اس کے بدلے میں مجھے اپنی جان کا خطرہ در پیش ہوگا۔فرمایا یہ فس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو وہ کام ہے جس کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں۔اس کام سے کیسے رک سکتا ہوں، بھیجا گیا ہوں لوگوں کی خرابیاں ان پر ظاہر کر کے انہیں سیدھے رستے کی طرف بلاؤں اور اگر اس راہ میں مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بہت خوشی سے اپنے لئے موت قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے اور میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا۔اے چا! اگر آپ کو اپنی کمزوری اور تکلیف کا خیال ہے تو آپ بے شک اپنی پناہ میں رکھنے سے دستبردار ہو جاویں مگر میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا اور خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند لا کر رکھ دیں تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہیں رہوں گا اور میں اپنے کام میں لگا رہوں گا حتی کہ خدا اسے پورا کرے یا میں اس کوشش میں ہلاک ہو جاؤں۔(ابن ہشام) اس وقت بیان توحید کے ساتھ آپ میں اس قدرشان پیدا ہو گئی تھی، اس قدر آپ کے کلام میں جلال تھا اور ایسا رعب تھا کہ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ابو طالب کھڑے رور ہے تھے، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔اس نے کہا اے میرے بھتیجے ! جو چاہتا ہے کر، میں تیرا ساتھ دوں گا، میں کبھی تیرا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔پس یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا منشا ہے جب تو حید کا بیان کرتے ہوئے خدا کی عظمت و جلال کا ذکر کرتے ہیں ، اس میں گہری سچائی کے ساتھ ایک خاص شان و شوکت پیدا ہو جانی چاہئے اور وہ گہری سچائی تمہیں طاقت بخشنے والی ہو ، ہر قسم کے خطرات سے تمہیں بے پرواہ کر دے کوئی غیر اللہ کا خوف تمہاری راہ میں حائل نہ ہو اور جب تم تو حید کا بیان کرتے ہو تو ہرگز پرواہ نہ ہو کہ سننے والے اسے کیا سمجھتے ہیں ، کیا ردعمل دکھاتے ہیں اور تمہیں کیا کیا خطرات درپیش ہوتے ہیں؟ یہ توحید کا اقرار انسان کے نیک اعمال میں تبدیل ہو جاتا ہے۔یہ وہ اقرار ہے جس کے نتیجے انسان خدا کی راہ میں دقتیں برداشت کرنے کی اہلیت اختیار کرتا ہے۔ہر قسم کی تکلیفیں اٹھانے کی طاقت پاتا ہے اور اس راہ میں وہ سب کچھ کر دکھاتا ہے جس کا وہ دعویٰ کرتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے توحید کی راہ میں جو کچھ دکھ اٹھائے ان کی تفصیل آپ ﷺ کی سیرت میں ہر جگہ پھیلی پڑی ہے۔اس وقت اس کے بیان کے تفصیلی ذکر کا وقت نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ