خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد ۱۲ 635 گی۔جتنی اس کی توفیق ہے۔یہ سمندر کا قصور نہیں ہے۔یہ سوئی کا قصور ہے۔خطبه جمعه ۲۰ /اگست ۱۹۹۳ء دیتے ہیں بادہ، ظرف قدح خوار دیکھ کر (دیوان غالب : ۱۱۳) اللہ دے تو سکتا ہے مگر دیتا اتنا ہے جتنا تو فیق ہو۔چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے۔وان من شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَابِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ ) ( الحجر (۲۲) کہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں مگر ہم ان خزانوں کو قدر کے مطابق اتارتے ہیں۔قدر سے مراد وقت کا اندازہ بھی ہے اور وہ لوگ بھی ہیں جن کے لئے خزانے اتارے جاتے ہیں، ان کی توفیق کے مطابق خزانوں کے منہ کھولے جاتے ہیں۔اب آپ دیکھیں کہ جب تک انسان کو Internal combustion engine بنانے کی توفیق نہیں ملی۔تیل کے خزائن کا اس کو کچھ علم نہیں تھا، نہ اس سے خبر تھی ، بے شمار خزائن بکھرے پڑے تھے۔لوگ سمجھتے تھے کہ مصیبت ہے تیل کی وجہ سے ہماری زمینیں بنجر ہو گئیں۔جہاں جہاں تیل کے اثر ظاہر ہوتے تھے وہ زمینوں کو گندہ کر دیتے تھے اور لوگ اسے نقصان سمجھا کرتے تھے۔جب وہ انجن ایجاد ہوئے جن کے اندر ایندھن جلتا ہے یعنی کوئلہ تو باہر جلتا ہے اور اندر گرمی پہنچاتا ہے ، پٹرول انجن کے اندر جلتا ہے جب انسانی دماغ اس حد تک پہنچا کہ ایسی مشینیں ایجاد کرے۔بعینہ وہی زمانہ ہے کہ تیل دریافت ہو گیا۔تو صرف عطا کرنے والے کی بحث نہیں ہے جن لوگوں کی توفیق ہے اس کے مطابق عطا کرنے والا عطا کرتا ہے ور نہ وہ صاحب حکمت نہیں ہوسکتا۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ جو فرماتے ہیں یہ اس کا مفہوم ہے۔دعاؤں کا لا انتہاء ہونا دراصل اپنی لاعلمی کا اظہار ہے۔ہمیں پتا نہیں کہ ہماری توفیق کیا ہے اس لئے ہم کم کیوں مانگ لیں؟ جب علم ہے کہ خدا اتنا ہی دے گا جتنی توفیق ہے، جتنا سنبھالا جائے تو مانگو بےحد اور پھر وہ اپنے فضل تم پر جاری فرمائے گا۔اس کا تعلق دو باتوں سے ہے اس دنیا میں بعد کی عمر سے بھی اور مرنے کے بعد کے زمانے سے بھی کیونکہ تو فیق بعض دفعہ بڑھ جاتی ہے۔ایک بچہ علم کے لحاظ سے کم تو فیق رکھتا ہے ، اس کو آپ وہی باتیں بتاتے ہیں جو وہ سمجھ سکتا ہے لیکن ہمیشہ تو ایک حالت پر نہیں رہا کرتا۔وہ علم میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔اس کے علم کے برتن وسیع ہوتے چلے جاتے ہیں۔وہ ایسی ایسی باتیں سنبھال سکتا ہے اور جذب کر سکتا ہے اور ان سے فائدے اٹھا سکتا ہے کہ جہاں اوّل زمانے میں اس کا