خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 626 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 626

خطبات طاہر جلد ۱۲ 626 خطبه جمعه ۱۳ راگست ۱۹۹۳ء ہے اور اپنے آپ کو اس کے بغیر ننگا مجھ تو ہمارا ہر لباس جو بھی ہے وہ تقویٰ کا لباس بن جائے گا اور خدا کے فضلوں کا لباس بن جائے گا۔وہ ہمارے ظاہری عیوب ہی نہیں ڈھانپے گا خدا کے فضل کا ہاتھ اس میں ایسی برکت ڈالے گا کہ ہمارے باطنی عیوب بھی ہر لباس میں چھپے رہیں گے۔پھر حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے۔اے میرے بندو ! تم صلى الله الله دن رات غلطیاں کرو تو بھی میں تمہارے گناہ بخش سکتا ہوں پس مجھ سے ہی بخشش مانگو۔اب چونکہ وقت ختم ہو رہا ہے اس لئے باقی آئندہ ، جو میں انشاء اللہ بیان کروں گا تاہم اس ضمن میں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ خدا سے بخشش طلب کرنے کا تعلق بھی انسان کے بخشش کرنے سے ہے اور وہ شخص جو خدا کی راہ میں خدا کی مرضی کے تابع بخشش کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ ہمیشہ بخشش کی نظر رکھتا ہے۔ہمیشہ اس سے بخشش کا سلوک فرماتا ہے۔یہ مضمون بعض دفعہ لوگوں کے ذہنوں میں الجھ جاتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ بخشش کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات میں بخشش کر دو حالانکہ حضرت عائشہ صدیقہ نے فرمایا تھا کہ خدا کے معاملہ میں آنحضرت ﷺ اپنے دل کی نرمی کو دخل نہیں دینے دیتے تھے مجھے بھی بعض لوگ لکھ دیتے ہیں۔اچھا ہوا آپ نے بخشش کا مضمون بیان فرما دیا۔آپ ہم سے ناراض ہیں اور فلاں بات پر ہمیں سزا ملی ہوئی ہے۔اب اس بخشش کے حوالے سے بخش دیں ورنہ خدا آپ کو نہیں بخشے گا۔یعنی یہ کہتے تو نہیں ہیں لیکن مراد یہی ہوتی ہے حالانکہ وہ ایسے مقامات ہیں کہ اگر میں بخش دوں تو خدا مجھے نہیں بخشے گا کیونکہ وہاں مجھے اجازت نہیں ہے۔انصاف کے ایک ہاتھ سے ہر قصور وار سے جو سلوک ہے خواہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہو وہ مجبوری ہے۔وہاں وہ حدیث سامنے آتی ہے کہ اگر میری بیٹی فاطمہ نے بھی یہ کام کیا ہوتا تو میں اس کے ہاتھ کاٹ دیتا۔( بخاری کتاب المغازی حدیث نمبر : ۳۹۶۴) پس بخشش کے بھی مقامات ہیں اور مراد یہ نہیں ہے کہ آنکھیں بند کر کے بخشتے چلے جاؤ۔ایسی بخشش کی اجازت ہے جس سے خدا راضی ہو۔اللہ ہو۔ایسی بخشش کی اجازت نہیں ہے جس سے خدا ناراض ہو۔ا س دائرے میں رہتے ہوئے آپ جتنا بھی بخشش سے کام لیں گے اتنا ہی اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہوگا اور خدا آر پ سے بخشش کا سلوک فرمائے گا۔اب چونکہ وہ پہلا وقت جو غلطی سے استعمال نہیں ہو سکا تھا اور اس کے بدلے ہمیں پندرہ منٹ زائد دیئے گئے تھے وہ بھی ختم ہو گئے ہیں اس لئے آج اس خطبہ کو میں ختم کرتا ہوں باقی انشاء اللہ تعالیٰ اسی مضمون کو اگلے خطبہ میں آگے بڑھایا جائے گا۔