خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 625 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 625

خطبات طاہر جلد ۱۲ 625 خطبه جمعه ۱۳/اگست ۱۹۹۳ء پھر فرمایا میرے بندو! تم سب ننگے ہو سوائے اس کے جس کو میں لباس پہناؤں۔اب دیکھیں ہم سب نے لباس پہنے ہوئے ہیں اور کبھی خیال ہی نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ نے لباس پہنایا ہے، مگر آنحضرت ﷺ کا دستور یہ تھا کہ جب کوئی لباس پہنتے تھے تو پیار کے ساتھ بسم اللہ پڑھا کرتے تھے اور اس کو اس طرح ہاتھ لگاتے تھے جس طرح ایک محبوب نے تحفہ دیا ہے۔محبت اور ملائمت کے ساتھ پھیرتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اس نے عطا کیا ہے۔تو وہ لباس تھا جو واقعی اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا تھا۔وہ دنیا کا لباس بھی لباس النقومی بن گیا صلى الله تھا۔حضرت رسول اللہ ﷺ کا ہر لباس لباس التقویٰ تھا کیونکہ ہرلباس کو اللہ کی عطا سمجھتے تھے۔وہ بیوقوف جن کے پاس بے شمار لباس پڑے ہوئے ہیں اور وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہماری کوششوں سے ہماری محنتوں سے ہمیں نصیب ہو گئے ہیں اور خدا کا شکر دل میں پیدا نہیں ہوتا وہ ننگے ہی رہتے ہیں پس یہاں ہم ننگے تھے میں تمہیں پہناتا ہوں، کا ایک اور مضمون بھی ہے اور وہ یہ کہ تم ہر لباس میں ننگے ہو جب تک اللہ تمہیں لباس فاخرہ عطا نہ کرے۔پس خدا سے لباس مانگو غالب بھی کہتا ہے۔ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی میں ، ورنہ ہر لباس میں جنگ وجود تھا (دیوان غالب صفحہ : ۲۷) میری تو ساری زندگی ایک ننگے وجود میں کئی۔ننگے وجود کے دو معنی ہیں۔اصل معنی تو ہے۔وجود کے لئے شرم یعنی میر اوجود، وجود کے لئے ایک شرم اور عا ر تھا۔ایک ناقص انسان تھا کہ وجود گویا مجھ سے شرمندہ ہوتا تھا کہ یہ بھی کوئی وجود ہے لیکن اس میں ایک فن ہے کھیل کھیلا گیا ہے ننگے کا مطلب ویسے نگا ہونا بھی ہے ان دونوں مضمونوں کو اکٹھا کر کے غالب کہتا ہے۔ڈھانپا کفن نے داغ عیوب برہنگی میں ، ورنہ ہر لباس میں ننگ وجو د تھا میرے ننگے پن کے سارے داغ کفن نے ڈھانپ لئے ورنہ میں تو ہر لباس میں نگا ہی تھا یعنی دوسرے معنوں میں یہ بات بنتی ہے اور حضور اکرم یہ فرمارہے ہیں کہ تم خدا کے فضل کے بغیر ایسے ننگے ہو کہ کفن بھی تمہار انگ نہیں ڈھانپ سکتا۔صرف اللہ کا فضل اور فیض ہے جو تمہارے تن ڈھانپ سکتا ہے۔پس لباس التقویٰ چاہتے ہو تو ہر لباس پر اس طرح نظر کرو کہ گویا خدا نے عطا کیا