خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 624 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 624

خطبات طاہر جلد ۱۲ 624 خطبه جمعه ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء مجھ سے رزق طلب کرو۔میں تم کو رزق دوں گا۔یہاں صرف بھو کے پیش نظر نہیں ہیں جن کو واقعی کھانا نہیں ملتا۔امیر بھی اور غریب بھی تمام بنی نوع انسان اس میں شامل ہیں۔پس ہر کھانا جو ہمیں نصیب ہوتا ہے وہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ رزق ہے۔اگر خدا اس رزق سے ہاتھ بھینچ لیتا تو ہمیں نصیب نہ ہوتا۔بعض دفعہ خدا تعالیٰ اس طرح بھی ہاتھ کھینچتا ہے کہ رزق سامنے ہے لیکن کھانے کی توفیق ہی نہیں۔بچے ہیں جن کو بیماری ہو جاتی ہے اور بھوک ہی نہیں لگتی ماں باپ روتے پھرتے ہیں کہ ان کو ہم اچھے سے اچھا کھانا دیتے ہیں لیکن ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔پس یہ بہت بڑا اور وسیع مضمون ہے جس کا زندگی کے ہر شعبے سے تعلق ہے جس میں انسان رزق کا محتاج ہو، خواہ وہ رزق مال و دولت کی شکل میں ہو، خواہ وہ کھانے پینے کی شکل میں رزق ہو۔بعض دفعہ مال و دولت نصیب ہوتا بھی ہے لیکن اس کا فیض انسان کو حاصل نہیں ہوتا۔مال، بڑے بڑے امیر لوگ ایسے ہیں جن کے سینوں میں آگ لگی رہتی ہے کچھ بھی فائدہ نصیب نہیں ہوتا۔پس فرمایا ہے کہ میں رازق ہوں۔میں رزق دیتا ہوں مجھ سے مانگو۔اس کا مطلب ہے کہ ہمیں رزق نصیب بھی ہو تو خدا سے ضرور رزق مانگنا چاہئے۔وہ رزق خدا کی طرف سے عطا کردہ رزق بنا ہوا ہو اور ہماری کمزوریوں کے نتیجہ میں حاصل کردہ رزق نہ ہو۔جب آپ اس مضمون میں داخل ہوں تو مالی معاملات میں صفائی کا مضمون اس کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ایک طرف انسان خدا کو یہ عرض کرتا ہے کہ اے خدا! میرا تو ہر کھانا تیری عطا ہے۔تجھ سے نہ مانگوں تو مجھے کچھ بھی نہ ملے اور دوسری طرف بھائیوں سے، دوستوں سے بد دیانتیاں بے ایمانیاں اور جھوٹے وعدے کر کے پیسے بٹورنا ، بلکہ بعض لوگ اپنے ماں باپ کی وفات پر اپنے بھائیوں اور بہنوں کے حق مار جاتے ہیں۔کئی ایسے مقدمے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ بہنیں عمر بھر روتی رہیں لیکن ظالم بھائی قابض تھے انہوں نے جائیداد میں سے بہنوں کو کچھ نہ دیا۔یہ ساری مثالیں عملاً شرک کی مثالیں ہیں اور ان کا تعلق اس حدیث کے اس حصے سے ہے کہ میں رزق دیتا ہوں مجھ سے طلب کرو، دھو کے بازیاں کیوں کرتے ہو ، بد دیانتیاں کیوں کرتے ہو، ایک دوسرے کا حق کیوں مارتے ہو۔اگر تم ایسا کرو گے تو وہ کھانا جو تم کھارہے ہو وہ خدا کا عطا کردہ نہیں رہے گا یعنی خدا تعالیٰ کی رضا اس میں شامل نہیں رہے گی اور ایسا رزق تو زہر بن جائے گا۔تمہارے دین و دنیا کے لئے تباہی کا موجب بن سکتا ہے۔