خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 623

خطبات طاہر جلد ۱۲ 623 خطبه جمعه ۱۳ راگست ۱۹۹۳ء عاجزی کے ساتھ عرض کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو ایمان نہیں لاتا ؟ عرض کیا کہ اے آقا! ایمان تو لاتا ہوں لیکن دل کو بھی تو اطمینان نصیب ہو۔بہت ہی پیاری بات ہے۔اس کو پیش نظر رکھیں۔ایمان کے ذریعہ قرآن کریم کی ہر بات کو تسلیم کرنا یہ اور بات ہے۔یہ ایمان اور اسلام کے ساتھ تعلق والی بات ہے۔طمانیت قلب کا مضمون اور ہے۔آپ ہاں کہہ جاتے ہیں۔سرتسلیم خم کر دیتے ہیں لیکن بعض دفعہ دل مطمئن نہیں ہوتا ، اطاعت کے جذبے سے ایسا کرتے ہیں مگر انبیاء اور اصدقاء کی سنت یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے تسکین دل بھی طلب کرتے ہیں اور اس کے بغیر ایمان کو در حقیقت دائمی زندگی نصیب نہیں ہوا کرتی۔جہاں طمانیت قلب میں کمی ہو وہاں جگہ جگہ خلا پیدا ہو جاتے ہیں اور وہ خلا جو ہیں وہ عمومی کمزوری کا موجب بن جایا کرتے ہیں۔بعض دفعہ جب ہوائی جہازوں کے پر ٹوٹ جاتے ہیں اور تحقیق کی جاتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ جب ان کو بنایا گیا تھا تو ہوا کے بعض بلبلے ان کی تخلیق میں داخل ہو گئے اور جہاں جہاں بلبلہ ہے وہاں وہاں کمزوری ہے۔پس کثرت استعمال سے ان بلبلوں کے ارد گرد کمزوری بڑھنا شروع ہوئی اور بالآخر وہ پر ٹوٹ گئے جب کہ سائنس کے نقطہ نگاہ سے جس طرح تیاری کی جاتی ہے بظاہر ان کو نہیں ٹوٹنا چاہئے۔پس ایمان میں بھی بعض دفعہ خلا کے بلبلے آجاتے ہیں اور وہی جگہ ہے جس کا طمانیت سے تعلق ہے۔پس وہ لوگ جن کے دل مطمئن نہیں ہوئے ان کو لازماً اللہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور خدا سے ہدایت طلب کرنی چاہئے اور خدا نے وعدہ فرمایا ہے کہ تم مجھ سے ہدایت مانگو گے تو میں تمہیں ضرور ہدایت دوں گا۔پس اللہ تعالیٰ کے ہدایت عطا کرنے کے کئی رستے ہیں۔بعض دفعہ دل میں ایک سوال اٹھتا ہے تو ضروری نہیں کہ اس کا جواب خدا کی طرف سے رویا میں ملے یا ویسے القاء ہو، اچانک ایک کتاب پر ہاتھ پڑ جاتا ہے اور اسی کتاب میں وہی مضمون بیان ہوا ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی تحریر سامنے آجاتی ہے جس سے سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔پس ہدایت طلب کرنے کی عادت کو اختیار کریں اور اس کو پکڑ لیں۔ہر مشکل کے وقت پہلے اللہ ہی کا خیال آنا چاہئے۔خداہی سے مدد مانگیں۔ہر مسئلہ کے وقت پہلے اللہ سے پوچھیں اور پھر دنیا کی کوشش ضرور کریں۔پھر اللہ تعالیٰ ان میں برکت ڈالے گا۔پھر فرماتا ہے۔میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جس کو میں کھانا کھلاؤں، پس