خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 620
خطبات طاہر جلد ۱۲ 620 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۹۳ء رہے۔ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے یہ جواب دے دیا تھا مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ روایت کرنے والے نے شاید غلطی کی ہو۔مجھے اس بات پر تسلی نہیں ہے کیونکہ آخر وقت جو بات رونما ہوتی صلى الله ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ اس وقت تک صحابہ آنحضور ﷺ کے اشارے پر خاموش ہی رہے تھے اور دشمن کو پتا نہیں لگ سکا تھا کہ وہ کہاں پناہ گزیں ہیں۔یہ ممکن ہے کہ حضرت عمرؓ نے آہستہ آواز میں اپنے دل کا غصہ نکال لیا ہو اور حضور اکرم ﷺ کے اشارے کے احترام میں اونچی آواز استعمال نہ کی ہومگر یہ پہلوغور طلب ہے کہ آپ نے جواب دیا تھا یا نہیں بہر حال جب یہ بات ختم ہوئی پھر ابوسفیان نے بڑے زور سے یہ نعرہ لگایا۔اغل هبل اغل مبل کہ ہبل کی سر بلندی ہو۔ہبل کی سر بلندی ہو۔اس پر حضور اکرم ہے بے قرار ہو گئے اور فرمایا جواب کیوں نہیں دیتے ؟ جواب کیوں نہیں دیتے یعنی جب تک ذاتی انسانی عزتوں کا سوال تھا تو آپ کو کوئی پرواہ نہیں تھی اور حکمت کا تقاضا بھی یہی تھا۔بہت زخمی تھے، چند تھے ، کمزور تھے ، دشمن بڑا غالب تھا اور عارضی فتح اس کے سر کو چڑھی ہوئی تھی۔ایسے موقعہ پر جواب دے کر اپنی جان خطرے میں ڈالنے والی بات تھی۔پس جب تک انسانی عزتوں کا سوال تھا حضور اکرم ﷺ نے بار بار سختی کے اشارے سے صحابہ کومنع کیا۔نہ اپنی عزت کی پرواہ کی نہ دوسرے صحابہ کی عزت کی مگر جب اس نے ھبل جھوٹے خدا کی بلندی کا نعرہ لگایا تو حضور اکرم یہ بے قرار ہوئے اور فرمایا جواب کیوں نہیں دیتے ، جواب کیوں نہیں دیتے ؟ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا۔اس سے کہو اور یہ اعلان کروں کہ اللہ اعلی وَاَجَل ، الله اعلی واجل خداہی ہے جو سب سے زیادہ معزز ہے اور سب سے زیادہ جلیل القدر اور جلیل الشان ہے۔اس سے زیادہ شاندار کوئی وجود نہیں ہے۔( بخاری کتاب المغازی: ۲۷۲۷) پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ الیہ کی زندگی کا ہر پہلو اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے جمال کے تابع تھا اور کوئی فیصلہ خدا کی عظمت کے تصور کے بغیر نہیں تھا۔انسانی عظمت کے تصور کو آپ کے فیصلوں میں کوئی دخل نہیں تھا کلیہ اللہ کی عظمت کے پیش نظر آپ بولتے تھے ،اللہ کی عظمت کے پیش نظر خاموش رہتے تھے اور کسی انسانی مفاد کا آپ کے بولنے اور آپ کی خاموشی میں کوئی دخل نہیں تھا۔جب خدا تعالیٰ کی توحید بیان کرتے تو ایک خاص جوش پیدا ہو جاتا تھا، ایک خاص جلال پیدا ہوتا تھا اور صحابہ کی زندگی پر اتنا گہرا اثر پڑتا تھا کہ بعض ایسے خطابات ہیں جن کو صحابہ نے سنا اور از بر کیا اور