خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 615

خطبات طاہر جلد ۱۲ 615 خطبه جمعه ۱۳ را گست ۱۹۹۳ء لکھا جائے اور ہر طرف دعا کا یہ انتشار کیا جائے۔یہ جماعت احمدیہ کا تشخص ہے۔آج دنیا میں جماعت احمدیہ کے سوا کوئی جماعت نہیں ہے جہاں اس کثرت سے، اس تکرار سے اور اس یقین کے ساتھ دعاؤں کے چرچے ہوں اور دعاؤں کے لئے ایک دوسرے سے درخواستیں کی جارہی ہوں۔پس یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ دعا میں کچھ بھی نہیں ہے۔دعا خدا تعالیٰ کے فضل جذب کرنے کا ایک ذریعہ ضرور ہے اور قطعی ذریعہ ہے اور اتنا اہم ذریعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دعا نہ ہوتی تو مجھے تمہاری کچھ بھی پرواہ نہیں تھی۔پس دعا سے انکار نہیں تھا لیکن کہنے کے ڈھب ہوتے ہیں اور اگر ایک شخص خصوصیت سے اس طرح بات کرتا ہو کہ ذہن میں یہ تکلیف دہ خیال جگہ پا جائے کہ یہ مجھے خاص طور پر اٹھا رہا ہے اور گویا میر امر تبہ بڑھا کر پیش کر رہا ہے، مجھے بتا رہا ہے کہ سب کچھ آپ کی دعا سے ہوا اور بار بار اس بات کی تکرار کرتا ہے، کہنے کا انداز ہوتا ہے۔اس صورت میں شدید تکلیف پہنچتی ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ لوگ کہتے ہیں کہ جناب آپ کی دعا سے میں سن لیتا ہوں لیکن کہنے کی طرز مجھے پسند نہیں آتی۔میرا دل چاہتا ہے کہ یہ کہیں کہ اللہ نے فضل فرمایا۔آپ کی دعا قبول کرلی۔یہ بے شک کہیں کہ مشکل میں تھے ، اللہ نے بہت فضل فرمایا ، آپ کی عاجزانہ دعا کو پایہ قبولیت میں جگہ بخشی اور اس کے نتیجہ میں رحم فرمایا۔یہاں تک تو کوئی شرک والی بات نہیں ،لیکن خدا کا ذکر ہی نہ آئے اور بار بار کہا جائے آپ کی دعا۔آپ کی دعا۔اس سے تو اعصاب ٹوٹ جاتے ہیں اور بعض دفعہ میں اس سے جان بوجھ کر عدم توجہ کرتا ہوں کیونکہ یہ کہنا بھی جائز نہیں ہے ، مناسب نہیں ہے کہ اس کو کہا جائے کہ نعوذ باللہ تم نے ایک مشرکانہ رنگ اختیار کیا ہے کیونکہ وہ بے چارا کہ تو یہی رہا ہے نا کہ اللہ نے دعا قبول کی، اس کی دل آزاری نہ ہو جائے ، اس لئے میں اعراض کرتا ہوں اور اعراض کرتا ہوں تو سمجھتے ہیں کہ میں نے سنا ہی نہیں۔چنانچہ ہر آدمی تو نہیں لیکن بعض ایسا کرتے ہیں کہ پھر بار بار وہی بات کرتے چلے جاتے ہیں، تو یہ سارے تلخ تجربے میرے پیش نظر تھے جن کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں نے نصیحت کی تھی کہ صرف مجھے ہی نہیں اور وں کو بھی جن کی دعا قبول ہوتی ہے شکریہ کے طور پر بے شک کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ نے بڑا احسان فرمایا کہ ہم نے آپ کو بھی دعا کے لئے لکھا تھا۔خدا نے آپ کی دعا بھی قبول فرمائی ہوگی اور اس سلسلہ میں جہاں تک آپ کی دعا کا تعلق ہے، ہم آپ کے ممنون ہیں لیکن اصل