خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 609
خطبات طاہر جلد ۱۲ 609 خطبه جمعه ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء مجلس خدام الاحمدیہ امریکہ کا سالانہ مرکزی اجتماع ۱۳۔۱۴۔۱۵ راگست کو منعقد ہورہا ہے۔صدر صاحب خدام الاحمدیہ امریکہ نے اجتماع کی کامیابی کے لئے دعا کی درخواست کی ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ ضلع کوئٹہ کا سالانہ اجتماع ۱۴/ اگست کو شروع ہورہا ہے۔قائد صاحب ضلع کوئٹہ نے اجتماع کے حوالے سے مجھ سے کچھ کہنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ان تمام اجتماعات سے متعلق میں ایک مرکزی بات جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں یہ سب تربیتی اجتماعات ہیں اور آج کل جبکہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت دنیا میں بکثرت پھیل رہی ہے اور رفتار تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے تربیت کی طرف پہلے سے زیادہ گہری نظر کے ساتھ اور مستقل مزاجی کے ساتھ توجہ دینی ہوگی۔مجھے بچپن سے مختلف قسم کے تربیتی اجتماعات میں شامل ہونے کی بھی توفیق ملتی رہی اور وہ اجتماعات منعقد کروانے کی بھی توفیق ملتی رہی۔مختلف جماعتی ذمہ داریوں میں یہ تجربے اطفال الاحمدیہ سے لے کر انصار اللہ تک کی عمر تک دراز ہیں۔میں نے ایک بات جو ہمیشہ محسوس کی اور اس کی وجہ سے طبیعت میں اطمینان نہیں ہو سکا کہ اجتماعات پوری طرح فائدہ مند ہیں بھی کہ نہیں، وہ یہ تھی کہ اجتماعات میں ضرورت سے زیادہ پروگرام بھر دیئے جاتے تھے اور کوشش کی جاتی تھی کہ تین دن میں سب کچھ پڑھا دیں۔قرآن کریم کا کورس ، حدیث کا کورس ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشادات کا کورس، نمازیں یاد کروانا، تبلیغ کے گر بتانا تبلیغ کی مرکزی آیات بتانا، اعتراضات کے جواب سکھانا ، یہ ناممکن ہے۔ہو ہی نہیں سکتا کہ تین دن یا پندرہ دن کے اجتماع میں بھی یہ ساری باتیں اچھی طرح بچوں کے ذہن نشین کرا دی جائیں۔پھر وہ سرسری سے امتحان ہوتے تھے اور پھر انعامات تقسیم ہو گئے اور سب نے جبّذا کہا اور چھٹی ہو گئی۔کچھ دن کے بعد جب آپ ان بچوں سے جا کر پوچھیں کہ کچھ یاد بھی ہے تو شاید ہی کوئی ہو گا جسے یاد ہوگا اور وہی ہوگا جسے پہلے ہی یاد تھا۔اجتماع کے بعد اس تین دن کے تیزی کے ساتھ گھوٹنے والے پروگراموں میں بچوں کو کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ہاں ایک روحانی لذت ضرور ہوتی ہے۔اجتماع میں شمولیت کی برکت ضرور عطا ہوتی ہیں۔اس لئے اجتماع کو بے فائدہ کہنا تو یقینا غلط ہے مگر پروگرام اس ذہانت سے ترتیب نہیں دیئے جاتے کہ تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ استفادہ ہو سکے۔تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ