خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 610 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 610

خطبات طاہر جلد ۱۲ 610 خطبه جمعه ۱۳ اگست ۱۹۹۳ء استفادہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ پروگرام نہیں بلکہ کم سے کم پروگرام رکھنے چاہئیں۔یہ دو چیزیں ایک دوسرے سے ضد رکھتی ہیں تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ پروگرام کم سے کم افادہ کریں گے یعنی فائدہ پہنچائیں گے اور کم سے کم پروگرام جن کو بڑی محنت کے ساتھ اور عقل کے ساتھ تیار کیا گیا ہو اور بار بار رواں کروایا جائے تو یہ پروگرام بہت گہرا فائدہ پہنچا سکتے ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کو سال بھر کا Home Task دیا جائے۔ہمارے ہاں سکولوں میں بھی استاد سمجھتے تھے کہ ایک گھنٹے کی پڑھائی یا چالیس منٹ کی پڑھائی کافی نہیں ہے۔اس لئے وہ گھر کا کام دیا کرتے تھے۔یورپ میں یہ رواج بہت زیادہ ہے۔جتنا کام وہاں دیا جاتا تھا اس سے بہت زیادہ کام یورپ میں گھر پر دیا جاتا ہے۔تمام یو نیورسٹیاں یہی کرتی ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ جب تک بچہ گھر جا کر خود ذمہ داری اور توجہ سے ان باتوں کو سمجھنے اور پڑھنے کی کوشش نہیں کرے گا۔اس وقت تک محض کلاس کا پڑھا ہوا کافی نہیں ہے۔تین دن کے جو اجتماعات ہیں ان میں تو بچے کو زائد وقت ملتا ہی نہیں۔ناممکن ہے کہ وہ رات گیارہ بجے تک مصروف رہے اور پھر صبح چار بجے اس کو تہجد پر بھی اٹھانا ہواور بیچ میں وہ گھر کے کام کی تیاری بھی کرے اس لئے حقیقت پسندی بہت ہی ضروری چیز ہے۔ساری دنیا کے اجتماعات کو حکمت سے بھر دیں عقل کے مطابق کام کریں، یہ بات یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ( البقره: ۲۸۷)۔اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔اس لئے آپ اگر اجتماع میں شامل ہونے والے یا تربیتی کلاسز پر آنے والے بچوں پر یا بڑوں پر ان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ ڈالیں گے تو ایک قسم کی خدائی کا دعوی کرنے والی بات ہے۔جو جھوٹی خدائی ہے کیونکہ سچا خدا تو بوجھ نہیں ڈالتا۔یہ جھوٹے خدا ہی ہیں جو اپنی بے وقوفی سے بوجھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔میں نے لفظ تو بہت سخت بولالیکن جو آخری تجزیہ ہے وہ یہی بنتا ہے۔انسان جب بھی خدا کی صفات سے ہٹ کر قدم اٹھاتا ہے تو عملاً ایک قسم کا جھوٹا خدا ہونے کا دعوی کرتا ہے اگر چہ وہ بالا رادہ نہ بھی ہو اگر بالا رادہ ہو تو وہ شرک ہے اور بہت بڑا گناہ ہے لیکن اگر غفلت کی حالت میں ناسمجھی میں کیا جائے تو شرک تو نہیں مگر شرک کے نقصانات ضرور رکھتا ہے کیونکہ انسان کو غیر اللہ سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔صفات باری تعالیٰ سے ہٹ کر آپ جو بھی کام کریں گے