خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 602
خطبات طاہر جلد ۱۲ 602 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء حضور جھکتا ہے اور بندوں میں بھی عاجزی اختیار کرتا ہے اسی حد تک اس کی رفعتوں کی بلند کڑیوں تک اس کا مقام پہنچایا جاتا ہے۔اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جہاں آنحضور ﷺ نے تمام بنی نوع انسان کو یہ خوشخبری دی ہے کہ اگر آسمانی رفعتوں کی تمنا رکھتے ہو اور ساتویں آسمان تک جانے کی بھی امیدیں ہیں تو اللہ فرماتا ہے بجز اختیار کرو۔عاجزی کے نتیجے میں تمہیں رفعتیں ملیں گی۔یہ نصیحت تمام بنی نوع انسان کو ہے لیکن آنحضرت یہ عجز کے مقام میں چونکہ سب سے بڑھ گئے تھے اس لئے معراج میں آپ کا مقام سات آسمانوں سے اوپر دکھایا گیا۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ آپ سب سے زیادہ عاجز بندے تھے اس میں ایک ادنیٰ بھی شک نہیں کیونکہ قرآن اور سنت سے سو فیصد یہ بات ثابت ہے کہ آپ کا عجز کا مقام تمام بنی نوع انسان میں سب سے بڑھ کر تھا ورنہ آپ کی رفعتوں کا مقام انسانی تصور کی حدوں سے باہر نہ ہوتا اور یہ باتیں کسی بڑے بڑے اعلانات میں آپ کو دکھائی نہ دیں گی۔آنحضور ﷺ کی روز مرہ دعاؤں سے یہ بجز اس طرح ٹپکتا ہے جیسے بچے کے لئے ماں کی چھاتی سے دودھ برستا ہے اس طرح بنی نوع انسان کے لئے آپ کی محبت اور بجز کا دودھ ٹپکنے لگتا ہے۔عرض کرتے ہیں اے اللہ میں تیری فرمانبرداری کرتا ہوں، تجھ پر ایمان لاتا ہوں اب فرمانبرداری پہلے رکھا ہے اور ایمان کو بعد میں حالانکہ بظاہر انسان یہ توقع رکھتا ہے کہ پہلے ایمان آئے گا پھر فرمانبرداری ہو گی لیکن ایک مومن جب فرمانبرداری کرتا ہے تو اس کا ایمان بڑھتا ہے اور پھر فرمانبرداری کی کوکھ سے ایمان پیدا ہوتا ہے۔آنحضرت یہ تو اول ایمان لانے والے ہیں۔اس لئے جب آپ ترتیب بدلتے ہیں تو اس میں گہری حکمت ہوتی ہے۔میں اس سے یہ مضمون سمجھتا ہوں کہ اے اللہ میں جب تیری فرمانبرداری کرتا ہوں تو میرا ایمان تجھ پر بڑھتا چلا جاتا ہے کیونکہ ہر فرمانبرداری کے نتیجے میں غیر معمولی برکتوں کے پھل ملتے ہیں ، تیری رضا حاصل ہوتی ہے اور یہاں ایمان سے مراد وہ ہے جو تجربے کا ایمان ہے جس طرح ماں باپ بار بار احسان کرتے ہیں تو بچے کا ماں باپ پر ایمان اور رنگ میں بڑھتا جاتا ہے۔تو عرض کیا کہ میں تیری فرمانبرداری کرتا ہوں تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور تجھ پر تو کل کرتا ہوں۔یہ بھی اس کے ساتھ تعلق رکھنے والا مضمون ہے کہ جب بار بار فرمانبرداری کے نتیجے میں خدا تعالیٰ رحمتیں لے کر نازل ہوتا ہے تو تو کل بڑھتا ہے، یقین ہو جاتا ہے کہ یہ بے سہارا چھوڑنے والی ذات نہیں ہے۔تیری طرف جھکتا ہوں تو کل کے بعد جھکنا ضروری