خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 593
خطبات طاہر جلد ۱۲ 593 خطبه جمعه ۶ راگست ۱۹۹۳ء دل موحد تھا۔تو یہ طبعی فضل ہیں جو خود بخو د نازل ہوتے رہیں گے۔تو حید کے مضمون سے متعلق ایک بات یادرکھنے کے لائق ہے کہ وہ موحد فرقے جن کے دلوں میں توحید سے سختی پیدا ہوتی ہے، جن میں رعونت پیدا ہو جاتی ہے جو دوسروں کو تحقیر کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں وہ لازما موحد نہیں ہیں کیونکہ توحید کی وہ علامتیں جونور مصطفوی کی صورت میں جھلکیں اور چمکیں اور کل عالم کو منور کیا۔وہ صفات یہ صفات نہیں۔توحید کی وہ صفات جو حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ہ کے دل پر جلوہ گر ہو کر آپ کی فطرت کا جزو بن گئی تھی ، کوئی فرق باقی ہی نہیں رہا تھا، وہ تو حید کا منظر تھا اگر کسی نے دیکھنا ہو تو اس کو دیکھے اگر آنکھوں میں دیکھنے کی طاقت ہو تو اس نظارے سے لطف اندوز ہو۔کامل انکسار بن گئے تھے تو حید کے بعد ، تمام دنیا کے لئے مجسم رحمت بن گئے تھے، چھوٹے بڑے کی سب تفریق مٹ گئی تھی ، قومیت کی ہر تفریق اس طرح زائل ہوگئی تھی جیسے نور کے آنے سے اندھیرے زائل ہو جاتے ہیں۔یہ وہ حقیقی توحید کا منظر ہے جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ یہ کی صلى الله ذات بابرکات میں چپکا ہے یہ وہی نور ہے جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے کہ نُورٌ عَلَى نُورٍ ( النور : ۲۴) وہ نور توحید کا نور تھا جو پہلے ہی آپ کے دل میں جلوہ گر تھا اسی نور نے آسمان کے نور کو کھینچا صلى الله ہے اور ان دونوں نوروں کے ملنے سے محمد مصطفی ملی دنیا میں جلوہ گر ہوئے۔پس یہ وہ تو حید ہے جس کی میں جماعت کو تعلیم دیتا ہوں۔ایسی تو حید جس کے نتیجے میں بنی نوع انسان سے محبت بڑھتی چلی جائے۔ایسی تو حید جس کے نتیجے میں تمام فاصلے قطع ہو جا ئیں اور باوجود فاصلوں کے ہم ایک دوسرے سے ملے ہوئے محسوس ہوں۔کوئی جغرافیائی حدود ہماری راہ میں حائل نہ رہیں، کوئی رنگ ونسل کی تمیز ہماری راہ میں حائل نہ رہے۔ہم بحیثیت انسان ایک دوسرے سے محبت کریں، بحیثیت انسان ایک دوسرے کو دیکھیں اور بحیثیت انسان ایک دوسرے کے دلوں کے ساتھ ہماری دھڑکنیں ہم آہنگ ہو جائیں یہ موحد کی نشانی ہے۔اللہ نے اپنے فضل سے ہمیں موحد بنایا ہے اس تو حید کی حفاظت کرو خواہ جان دے کر حفاظت کرنی پڑے، مال قربان کر کے حفاظت کرنی پڑے۔خدا تعالیٰ کی رحمت کا یہ وہ سب سے پیارا پھل ہے جو ہمیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیم اور آپ کے اسوہ کے ذریعہ عطا ہوا ہے۔اس کے سوا دنیا میں کوئی قوم توحید کا حقیقی نظارہ پیش نہیں کر سکتی۔دیکھیں عیسائیت بھی تو دنیا میں پھیل رہی ہے بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے مگر کہاں قوموں کو