خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 584
خطبات طاہر جلد ۱۲ 584 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۹۳ء کرو۔جب تک خدا کی نظر میں تم وہ متقین کی جماعت بنے رہو گے جو آخرین میں آنے کے باوجود اولین سے ملائے جانے کے مستحق قرار دیئے گئے ہو۔اس وقت تک کوئی دنیا کی طاقت تمہارا ادنی بھی نقصان نہیں کر سکتی۔تم ضرور پھیلو گے اور پھولو گے۔تم ضرور کل عالم پر محیط کئے جاؤ گے کیونکہ تم اس پیغام کے علمبر دار اور امین بنائے گئے ہو جو کل عالم پر محیط کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، جو کل عالم پر محیط ہونے کے لئے بنایا گیا ہے اس لئے اس میں تمہاری کوئی خوبی نہیں۔یہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ کا دین ہے جس کا مقدر یہ ہے کہ لازماً تمام دنیا پر غالب آئے گا۔اتنے بڑے نصیب ہیں ان ادفی لوگوں کے جو ہم اور تم ہیں۔وہ لوگ جو اپنے نفس پر نگاہ کرتے ہیں تو اپنے آپ کو کسی خوبی کا لائق قرار نہیں دیتے، کسی خوبی کا سزاوار نہیں ٹھہراتے مگر خدا نے وہ کیا بات ہے جو ہم میں دیکھی جس کی وجہ سے اتنا عظیم فضل فرمایا ہے۔اس مضمون پر غور کریں تو اس کا حل ذلِكَ فَضُلُ اللہ میں ہی ملتا ہے۔یہ تقویٰ بھی اللہ ہی کا فضل ہے۔اگر ہماری آخری نیتیں محض اللہ ہیں، اگر ہم اپنی روحانی بیماریوں کے باوجود بالآخر اپنے نفس کے آخری نقطے کے لحاظ سے اولیت خدا کو اور خدا کے دین کو دینے والے ہیں۔اگر ہم خدا کی خاطر یہ تہیہ کئے بیٹھے ہیں کہ جو کچھ ہم پر گزرے گزر جائے تمام دنیا ہمیں چھوڑ دے لیکن ہم نے اس دین کی خدمت سے ہاتھ نہیں کھینچنا بلکہ اپنا سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے چھوڑیں گے۔یہ وہ تقوی کی علامت ہے جو فضل کے ساتھ ہمارے اندر پیدا ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ آج تمام عالم میں جماعت احمد یہ خدا کے اس فضل کی امین بنادی گئی ہے اور ہر جگہ تقویٰ کے عظیم نشان الہی پھلوں کی صورت میں ظاہر ہوئے ، رضائے باری تعالیٰ کی صورت میں ظاہر ہورہے ہیں، هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى کا ایک یہ بھی مطلب ہے۔یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی ذات میں علم رکھتا ہے اور چھپائے رکھے گا سب سے، بلکہ تقویٰ کی نشانیاں خدا کے فضل سے مومنوں کے چہروں پر ان کے اعمال میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ اَثَرِ السُّجُودِ ( افتح ۳۰) وہ اپنی نیکیوں کو دکھاتے تو نہیں ہیں۔اس کا اشتہار تو نہیں دیتے لیکن اللہ کی یہ تقدیر کارفرما ہوتی ہے کہ ان پاک بندوں کی نیکیوں کو جن پاک بندوں پر اس کی رحمت کی نظر ہو ان کے چہروں میں اس طرح ظاہر کرتا ہے کہ وہ نور دکھائی دینے لگتا ہے۔دنیا دیکھتی ہے اور جانتی ہے