خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 585
خطبات طاہر جلد ۱۲ کہ یہ بچے لوگ ہیں۔585 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء پس یہی وہ تقویٰ ہے جو فضل کی صورت میں ہم پر نازل ہوا، یہی اس تقومی کی علامت ہے جو ہمارے چہروں کو ہمیشہ منور رکھے گی اگر ہم اس تقویٰ پر قائم رہے اور یہی خدا کے فضل کا نور ہے جو ہمارے چہروں پر ظاہر ہو گا یعنی صداقت کا نور جس کی طاقت سے ہم دنیا کو فتح کریں گے ، یہی ہے وہ ایمان جو ثریا پر جا چکا تھا اب دوبارہ زمین پر لوٹایا گیا ہے۔اسے کس طرح واپس کرنا ہے ، کیا کام کرنے ہیں، پروگرام تو وہی ہے جو قرآن کریم پیش فرما چکا ہے۔ایک ذرہ بھی اضافہ نہیں ہوسکتا، ایک ذرہ بھی اس میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ہمارے پروگرام کی چار بنیادی باتیں ہیں۔پہلی بات یہ ہے کہ ہم قرآن کریم سے چمٹ جائیں وہ آیات جن کی تلاوت ہمارے سامنے کی گئی ہے۔ان کو اپنی زندگی کا شعار بنالیں۔اپنا پیغام، اپنا اوڑھنا بچھونا ، اپنی زندگی کا ہر محرک کلام الہی کو بنا لیں۔اپنی زندگی کی ہر تحریک کو روکنے والا بھی کلام الہی کو بنا لیں، ہمارے اٹھنے والے قدم بھی قرآن کے تابع اٹھیں، ہمارے رکنے والے قدم بھی قرآن کے تابع رکیں۔یہ پہلا پیغام ہے جو آخرین کی جماعت کو خدا کی طرف سے از سر نو دیا گیا ہے اور دوسرا پیغام یہ ہے کہ تزکیہ کریں اگر محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی کا دعویٰ ہے اور اسی سنت کو دوبارہ جاری کرنا چاہتے ہیں تو ایسے نہیں کہ آپ کے ارد گرد پاک لوگ پیدا ہوں ، بدیاں نہ پھیلیں۔ہر شخص اپنے ماحول سے پہچانا جاتا ہے۔دہی کا ایک قطرہ دودھ کے ارد گرد ایسی تبدیلیاں پیدا کرتا ہے کہ وہ دودھ جو سیال حالت میں ہے وہ جم کر دہی کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔پس ماحول سے انسان پہچانا جاتا ہے۔اس ماحول سے بھی جس ماحول کو وہ اپنے لئے چلتا ہے اور اس ماحول سے بھی جو اپنے اردگرد خود بخود پیدا کرتا ہے۔پس مومن کی صفات فعال صفات ہیں۔یزیھم میں انہی فعال صفات کا ذکر ہے۔یہ مراد نہیں کہ وہ صحبت صالحین اختیار کرتا ہے۔مراد یہ ہے کہ ارد گرد کو وہ تقویٰ سے بھر دیتا ہے۔ان کا تزکیہ کرتا چلا جاتا ہے۔پس یہ دوسرا پیغام ہے جو جماعت احمدیہ کے لئے ہے اور یہی اس کے تقویٰ کی نشانی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔قرآن سے چمٹے رہیں اور تزکیۂ نفس کی اہلیت پیدا کریں۔آپ کا تزکیہ ہمیں کیا معلوم ہوا کہ نہیں۔اگر آپ کے ماحول کا تزکیہ ہوا تو ہم دیکھ سکیں گے اور جان لیں گے