خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 579 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 579

خطبات طاہر جلد ۱۲ 579 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء کے ستاروں سے ایمان کو دوبارہ زمین پر کھینچ لائے گا۔پس یہ پیشگوئی ایک بہت ہی عظیم الشان پیشگوئی ہے۔اس زمانے کے احیائے نو سے اس کا تعلق ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ صلى الله الصلوۃ والسلام کے اوپر وارد کئے جانے والے تمام اعتراضات کا جواب اس میں موجود ہے۔کئی دفعہ لوگ پوچھتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ پر دین کامل ہو گیا۔آپ نے آیات پڑھ دیں، آپ نے تزکیہ نفس فرما دیئے۔آپ نے تعلیم کتاب کر دی جس سے بہتر کوئی تعلیم کتاب نہیں کر سکتا تھا، حکمتیں بیان فرما دیں کہ جن سے بہتر کوئی حکمتیں بیان نہیں کر سکتا تھا۔پھر ضرورت کیا تھی کسی اور کے آنے کی۔آپ نے کیا سلسلہ نیا شروع کر رکھا ہے۔اتنی گستاخی ، اتنے عظیم الشان نبی کے بعد جس کا دین کامل، جس کی کتاب ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دی گئی ، جس کی سنت کا ذکر محفوظ ہو گیا، جس کی تعلیم کتاب و حکمت کی باتیں آج تک مسلمانوں میں روایہ بھی جاری ہیں اور تحریراً بھی۔اس کے بعد ضرورت کیا تھی کہ کسی اور کو بھیجا جائے مگر سوال یہ تھا کہ آخرین کو اولین سے کیسے ملایا جائے ؟ آخرین کو اولین سے ملانے کے لئے کچھ برگزیدہ لوگوں کی ضرورت ہے، کچھ خدا سے تائید یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی فرمایا گیا کہ دراصل حضور اکرم ﷺ کی حدیث کی طرف اشارہ کر رہا ہوں کہ آپ نے ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ وجہ میں بتاتا ہوں کہ کیوں کوئی آئے گا ؟ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانِ عِندَ الثَّرَيَّا آخرین میں ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ گویا ایمان ثریا پر جا پہنچے گا۔زمین پر دکھائی نہیں دے گا۔آسمان پر جابسے گا۔جہاں سے اترا تھا یعنی واپس اپنے اصل کی طرف لوٹ جائے گا۔سوال یہ ہے کہ کتاب اور سنت اور تعلیم اور حکمت کی باتوں کے باوجود ایمان کیسے اٹھ گیا ؟ اگر ایمان ہی اٹھ گیا تو باقی کیا رہا؟ اگر ایمان ہی نہیں ہے تو تزکیۂ قلب اور تعلیم اور حکمت کی باتوں کا ذکر ہی کیا ملتا ہے؟ ان کا کوئی دور کا بھی تعلق باقی نہیں رہتا۔ایمان اٹھ جانا ایک ایسی بنیادی کمزوری ہے جس کے نتیجے میں یہ تمام کتاب اور آیات اور تزکیہ کے مضامین سارے اپنی کارفرما قوتوں سے عاری ہو جاتے ہیں یعنی کتاب کامل ہے لیکن اس کے اندر اس کو جاری کرنے کے لئے کارفرما قوت کی ضرورت ہے۔تزکیہ نفس ضرور ہوتا ہے لیکن ایک کارفرما قوت کی ضرورت ہے اور یہی مضمون آگے صلى الله چلتا ہے۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ مسئلہ حل فرمایا کہ وہ کارفرما قوت ایمان ہے۔ایمان ہو تو یہ ساری باتیں فائدہ دیں گی اور نہ کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔اتنا پر حکمت جواب ہے اس وقت بھی