خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 577 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 577

خطبات طاہر جلد ۱۲ 577 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۹۳ء آنے والے نے اولین سے ان لوگوں کو ملایا۔یہ میرے منہ کی بات نہیں بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ ے کی اپنی پیشگوئی ہے یہ اسی آیت کریمہ کی تشریح سے تعلق رکھتی ہے۔بخاری شریف میں یہ مضمون صلى الله۔صلى الله بیان ہوا ہے کہ جب حضرت اقدس محمد رسول اللہ علیہ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی تو کچھ صحابہ کے جھرمٹ میں آپ بیٹھے ہوئے تھے اور صحابہ میں سے کسی نے تعجب سے یہ سوال کیا کہ یا رسول اللہ وہ ہوں گے کون ؟ جن کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے۔اخَرِيْنَ مِنْهُمْ۔بہت ہی بڑی عظیم الشان قوم ہے جس کا ذکر ملتا ہے کہ آخرین میں ہو کر اولین سے جاملیں گے۔اس مضمون کی عظمت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانے سے لے کر آخرین کے زمانے تک جو بہت بعد کا زمانہ ہے آخرین کہتے ہی ہیں ان لوگوں کو جوسب سے آخر پر پیدا ہوں۔بہت لمبا عرصہ جس میں بڑی کثرت کے ساتھ آپ کو بزرگ صحابہ کے بعد بھی اولیاء اللہ ، بڑے بڑے خدمت کرنے والے، بڑے بڑے مجددین ملتے ہیں، بڑی بڑی مہمات چلائی گئی ہیں۔دین کی خدمت کے لئے از سر نو اسلام کومحمد رسول اللہ اللہ کی صفات حسنہ سے مزین کرنے کے لئے لیکن ان میں سے کسی کے اوپر خدا کے انتخاب کی نظر نہ پڑی اور ان میں سے کسی سے متعلق یہ نہ فرمایا کہ وہ اولین سے آملیں گے۔اس لئے بہت دور میں پیدا ہونے والوں کا ذکر کرنا اور بیچ کی تمام صدیوں کو چھوڑ جانا۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ جن لوگوں کا ذکر ہورہا ہے۔وہ خالص خدا کے فضل سے پیدا ہوں گے۔کوئی انسانی کوشش یہ کام کر کے نہیں دکھا سکتی۔خدا کے فضل سے پیدا ہوں گے اور وہ اتنا بڑا فضل ہے کہ اس کے ذکر کے ساتھ ہی بے ساختہ روحیں یہ اقرار کریں گی وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ـ سبحان اللہ کیسی شان کا خدا ہے، کتنے بڑے فضلوں کا مالک۔یہ وہ مضمون ہے جس کا جماعت احمدیہ سے گہرا تعلق ہے اور یہ مضمون کس طرح ہم پر صادق آتا ہے۔اس کا بیان اس حدیث میں ہے جس کا میں نے ذکر کیا تھا۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ سے جب پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ اس سوال میں ایک تعجب شامل ہے۔اس کی نشاندہی ضروری ہے، تعجب یہ ہے کہ صرف حضور اکرم ﷺ کی بعثت کا ذکر ہے۔کسی اور وجود کے بعد میں پیدا ہونے کا کوئی ذکر ہی موجود نہیں ایک ہی فعل ہے بحث کا جو اس آیت کے شروع میں بیان ہوا اور اس کے بعد کوئی نیا فعل کسی اور آنے