خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 571 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 571

خطبات طاہر جلد ۱۲ 571 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۹۳ء مراد ہوتے ہیں جو ہر شریعت میں بیان ہوتے ہیں۔پس کسی ایک ہی بات کی تکرار نہیں بلکہ ایک نیا مضمون الكتب کہہ کر شروع فرمایا۔خدا تعالیٰ کی آیات پڑھنے میں ایک مضمون یہ بھی ہے کہ عظیم الشان نشانات پیش کرتا ہے۔ایسے اعجازی نشان پیش کرتا ہے جس سے ایمانوں کو تقویت ملتی ہے اور ان کا ضروری نہیں کہ کتاب سے ان معنوں میں تعلق ہو کہ ان میں حکم اور مناہی بیان ہوں۔پس آیات کا لفظ زیادہ وسعت رکھتا ہے اور اس میں نا صرف قرآن کریم کی آیات مراد ہیں بلکہ ایمان افروز نشان بھی اس کے اندر شامل ہیں جن کو سن کر ایمانوں میں ایک نئی تازگی پیدا ہو جاتی ہے۔یزکیھم جو معاً بعد فرمایا اس سے اس وسعت مضمون کو مزید تقویت ملتی ہے کیونکہ وہ آیات جو الہی نشان اور اعجازی شان و شوکت رکھتی ہوں۔ان سے لا ز ما تزکیہ قلوب ہوتا ہے۔ایمان ترقی کرتا ہے اور ایمان ترقی کرنے کی ایک طبعی قطعی علامت یہ ہے کہ اعمال ترقی کرتے ہیں۔پس یا درکھیں کہ وہ ایمان کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتا جس کے ساتھ تزکیہ شامل نہ ہو۔اگر ایک انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے جیسا کہ بہت سے لوگ بعض نیک مجالس میں شامل ہو کر کہا کرتے ہیں کہ بہت لطف آیا اور بہت ایمان میں ترقی ہوئی اور واپس جا کر انہی کاموں میں پھر مبتلا ہو جاتے ہیں جو پہلے کرتے آئے تھے اور ان میں تزکیہ کے ظاہر ہونے کے آثار نہیں پائے جاتے۔پس حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی یہ شان بیان فرمائی گئی کہ آپ جو ایمان افروز باتیں کرتے ہیں۔وہ محض زبانی باتیں نہیں ہیں ان میں ایک گہرا اثر ہوتا ہے۔وہ ایسی ایمان افروز باتیں کرتے ہیں کہ ایمان کے ساتھ ساتھ اعمال بھی ترقی کرتے ہیں اور تزکیہ نفس ساتھ ساتھ ہوتا چلا جاتا ہے۔یہ جو مضمون ہے کسی تفصیلی تعلیم کا محتاج نہیں۔ایک پاک وجود جب پاک با تیں، الہی باتیں لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے تو اس کی گہری ، ذاتی صداقت کا یہ نشان ہے کہ وہ اعمال میں پاک تبدیلیاں پیدا کرتا چلا جاتا ہے اور بچے ایمان کی یہی نشانی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے کیونکہ پاک تبدیلیاں دو قسم کی ہیں ایک وہ تبدیلی کہ جب انسان کسی ایمان افروز بات سے متاثر ہو اس کے دل کے اندر ایک نیکی پیدا ہوتی ہے اور اسی کو تزکیہ کہا جاتا ہے۔ایک وہ تبدیلی جو اس علم کے بعد آتی ہے کہ نیکی ہے کیا ؟ میں خدا کو راضی کرنے کے لئے آمادہ تو ہو چکا ہوں مگر راضی کیسے کروں؟ یہ جو دوسرا حصہ صلى الله