خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 559

خطبات طاہر جلد ۱۲ 559 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء اکثریت اسی روح کے ساتھ خرابیوں کو دور کیا کرتی تھی۔پھر زبان سے دور کرنا اس روح کے منافی نہیں ہونا چاہئے جو روح آئینے کی روح ہے۔ایک طرف آئینے کی تمثیل ہے وہ بھی تو حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کے مبارک کلمات ہیں اور ایک طرف زبان سے بدی کو روکنا ہے۔ان دونوں کے درمیان دو صورتیں دکھائی دیتی ہیں۔ایک تو یہ کہ مومن غلطی کر رہا ہے کیونکہ وہاں مومن کو مومن کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ایسی صورت میں اس غلطی کو اسی طرح ادب سے چھپا کر دوسرے کی عزت نفس قائم کرتے ہوئے اسے سمجھانا چاہئے۔دوسری صورت یہ ہے کہ ایک غیر مومن ایک بدی کا شکار ہے تو اسے ایسے انداز سے نصیحت کرنا جس سے نصیحت فائدے کی بجائے نقصان دے دے تو یہ بہت ہی بڑی حماقت ہوگی۔اگر شیشہ ایسے عیوب دکھانے لگے کہ جس کے اوپر دیکھنے والا غصہ کھائے اور نفرت کی نگاہ سے شیشے کو دیکھے تو کسی کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔وہ روح اگر چہ حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے خالصہ مومن اور مومن کے درمیان رشتے کی شکل میں بیان فرمائی ہے مگر مومن کا ایک فیض عام بھی تو ہے۔اس فیض عام کے تابع یہ ہدایت ہے کہ دوسروں کو بھی نصیحت کرو، غیروں کو بھی نصیحت کرو اور وہ اسی طرح کرو جس طرح حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم خود کیا کرتے تھے۔ایک بھی واقعہ ایسا نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم نے نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور تیز زبان سے نصیحت کی ہو۔ساری سیرت کا مطالعہ کر لیں کہیں ادنی سا واقعہ بھی آپ کو دکھائی نہیں دے گا۔ملانوں نے پھر کس طرح تعبیریں کرلیں جس تعبیر کے ایک ایک جزو کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کی سیرت کا ایک فعل دھتکار رہا ہے اور رد کر رہا ہے۔سارا کردار اس کے مخالف ہے۔پس جب غیروں کو بھی نصیحت کرو تو اس طرح کرو جس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم عزت اور وقار کے ساتھ دوسروں کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے حیرت انگیز پاکیزگی کے ساتھ نصیحت فرمایا کرتے تھے۔جب اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا کہ فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ( الحجر : ۹۵) تو اس وقت آپ ایک پہاڑی پر چڑھ کر جب قوم سے مخاطب ہوئے تو دیکھیں کہ کتنے پیار کے ساتھ، کتنی نرمی کے ساتھ ان کو رفتہ رفتہ نصیحت کے مضمون کی طرف لائے ہیں۔پھر جب قوم نے برا رد عمل دکھایا تو یہ قوم کا قصور تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی الہ وسلم کا نہیں تھا۔پس ایسی نصیحتوں کو اختیار کرنا جن سے لوگ متنفر ہوں