خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 560

خطبات طاہر جلد ۱۲ 560 خطبہ جمعہ ۲۳ / جولائی ۱۹۹۳ء اور دور بھا گئیں یہ سنت نہیں ہے یہ مخالفین محمد مصطفی منہ کا کردار ہے جسے ہم کسی صورت اپنا نہیں سکتے۔پس جلسے میں بھی اسی نصیحت کو یا درکھیں، نصیحت کریں تو سلیقے کے ساتھ اور طریقے کے ساتھ کریں۔بے پردہ عورتیں بھی دکھائی دیں گی اور ان کو بھی کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن آپ کو یہ اس رنگ میں ان تک پہنچانے کا کوئی حق نہیں کہ کیا تم نے چہرہ نگا کیا ہوا ہے، اپنا نقاب سامنے کرو، پھر نے کا یہ کونسا سلیقہ ہے۔ایسی بدتمیزی سے آپ باتیں کریں گے تو وہ عورتیں اصلاح پذیر ہونے کی بجائے آپ سے ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں اسلام سے بھی نفرت کرنے لگیں گی۔یہ کیسی نصیحت ہے جو جنت کی بجائے جہنم میں دھکیل رہی ہے اور پھر اگر اتفاق سے ان کے قریبی سن رہے ہوں اور وہ آپ سے طاقتور ہوں تو یہ نصیحت آپ پر جوتیاں بن کر بھی پڑسکتی ہے اور وہ جو تیاں جائز ہوں گی کیونکہ آپ کو کسی کی بے عزتی کرنے کا کوئی حق نہیں۔پس نصیحت کریں تو سلیقے اور عقل اور ادب کے ساتھ کریں اور مناسب طریق پر کریں۔جہاں تک حق ہے وہاں تک پہنچیں ، اس سے آگے قدم نہ بڑھائیں، اس طرح اگر آپ جلسے کے انتظام کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کریں گے اور آنے والوں کو ان کے حقوق اور ان کے فرائض یاد کرائیں گے، ادب اور پیار سے نصیحتیں کریں گے تو یہ جلسہ ان مقاصد عالیہ کو حاصل کرنے کا ایک بہت عمدہ ذریعہ بن جائے گا جن مقاصد عالیہ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی مختلف تحریرات میں پیش فرمایا ہے۔ان تحریرات کو میں انشاء اللہ اگلے جمعہ میں جو جلسہ کے آغاز پر ہو گا اس وقت آپ کے سامنے یاد دہانی کے طور پر پڑھ کر سناؤں گا۔ان اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے آپ کی نصیحتیں وقف ہونی چاہئیں ، ان اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے آپ کی عملی خدمات وقف ہونی چاہئیں اور یادرکھنا چاہئے کہ دور دور سے صرف اپنے ہی نہیں بلکہ وہ غیر بھی آئیں گے اور کثرت سے آئیں گے جنہوں نے اس نیت سے سفر کیا ہے کہ اگر اپنا بننے کے لائق لوگ ہوئے تو ہم ان کا بن جائیں گے۔مجھے ابھی سے اطلاعیں آ رہی ہیں کہ امریکہ سے بھی لاس اینجلس سے بھی بعض ایسے دوست تشریف لا رہے ہیں اور دور کی اور جماعتوں سے بھی، کینیڈا سے بھی اور افریقہ سے بھی ، یورپ سے بھی ، دور دور سے یہاں تک کہ نجی آئی لینڈ اور طوالو وغیرہ کی طرف سے بھی جو بحر الکاہل کے جنوب مشرقی علاقوں سے تعلق رکھنے والے جزائر ہیں ان سے بھی بعض غیر احمدی دوست لمبے سفر کر کے محض اس لئے تشریف لا رہے ہیں کہ اب تک ان کو