خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 52
خطبات طاہر جلد ۱۲ 52 خطبه جمعه ۱۵؍ جنوری ۱۹۹۳ء ہے یہ سائنسی قوانین کے خلاف بات ہے ان لوگوں کو یہ کیسے سمجھایا جائے جو دنیا کی عقل و دانش کی بلندیوں پر کھڑے باقی دنیا کو بیوقوف اور ذلیل سمجھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں یہ کہتے ہیں کہ ہم تو عقل و دانش اور علم کی بلندیوں سے بات کر رہے ہیں دنیا کو کیا پتا عقل کیا ہوتی ہے اور ان کو اتنا بھی نہیں پتا کہ Polarization کا جو اصول ہے وہ ایک دائمی اصول ہے اس کو کوئی تو ڑ نہیں سکتا کوئی کاٹ نہیں سکتا اگر امریکہ نیکی کا پول قائم کرتا۔انصاف کا پول قائم کرتا محبتیں پھیلانے کا پول قائم کرتا، بھوکوں کے پیٹ بھرنے کا اور حقیقت میں غریب انسانیت کی مدد کا Pole قائم کرتا تو اس پول کے مقابل پر لازماً ایسا ہی ایک پول قائم ہو جاتا ہے اور پھر ایک دوسرے سے مسابقت یعنی نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی مسابقت کا ایک دور چل پڑتا ہے۔ایک طرف امریکہ دنیا کو جیتنے کے لئے نیکیاں کر رہا ہوتا ایک طرف ایک پول جاپان میں پیدا ہو جاتا اور وہ کوشش کرتا پول سے بجلی کا مرکزی نقطہ مراد ہے جو اپنے ارگرد کھینچتا بھی ہے اور اپنے سے بعض طاقتوں کو دفع بھی کرتا ہے تو نیکی کے پول کھینچتا، مراد یہ ہے کہ اگر ایسا پول ایک طرف قائم ہو تو مد مقابل ایک پول ضرور بنے گا خواہ اس کا مرکز یورپ بنتا خواہ اس کا مرکز جاپان بنتایا چین بنتا ایسا پول بنا لا زم تھا اب ہم کیا دیکھ رہے ہیں نفرتوں کے نتیجہ میں ایک نفرت کا پول دنیا میں دوسری طرف ضرور ظاہر ہوگا اور وہ پول امریکہ کی نفرت کا پول ہوگا۔اس کی بنیادیں جاپان میں ڈالی جا چکی ہیں، اس کی بنیادیں چین میں قائم کر دی گئی ہیں درمیانی دنیا کے ملکوں میں بھی یہ نفرت دن بدن بڑھتی چلی جارہی ہے۔یورپ میں بھی اس کی بنیادیں ڈالی جا چکی ہیں یورپ میں بالغ نظر سیاستدانوں کی ایک کھیپ ہے جو سمجھ رہی ہے کہ امریکہ کی اس قسم کی بالا دستی دنیا تسلیم نہیں کر سکتی کہ عدل کا خون کر کے امریکہ کے نام کا غلبہ دنیا پر ہو اس وقت صرف مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے کل دوسروں پر بھی ہو سکتا ہے اور ہوگا۔اس لئے پول بنانے والا جو یہ قصہ ہے اس میں انسان کو خدا نے یہ اختیار دیا ہے کہ چاہے تو نیکی کے پول بنالوجیسا کہ مسلمانوں کو تعلیم دی کہ وَلِكُلّ وَجَهَةٌ هُوَمُوَ لَيْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقره: ۱۴۹) اے محمد رسول الله ﷺ جو کوثر کے مالک ہیں سب خیرات کے جاری کرنے والے ہیں ان کے غلامو! ہم تمہیں یہ تعلیم دیتے ہیں کہ نیکیوں میں آگے بڑھنے کا پول قائم کرو، اگر ایسا کرو گے تو دنیا میں جگہ جگہ تمہارے مقابلے، تمہاری رقابت کی خاطر ہی لوگ نیکیوں میں آگے بڑھنا شروع کر دیں گے لیکن آج جو پول قائم ہوا