خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 554
خطبات طاہر جلد ۱۲ 554 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۹۳ء میں اس میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور محض دماغی اعصابی رشتے کسی انتظامیہ کو ایک صالح نظام میں تبدیل نہیں کر سکتے۔اس کے ساتھ قلبی رشتوں کا ہونا بھی ضروری ہے جیسا کہ خلافت کا مضمون آپ خوب سمجھتے ہیں۔ساری جماعت کا خلیفہ وقت سے صرف دینی رشتہ نہیں ایک قلبی رشتہ بھی ہے اور دونوں رشتے بیک وقت مضبوط اور متوازی ہیں اور ہم آہنگ ہو کر ایک رشتے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔بعینہ یہی نقشہ جماعت احمدیہ کی ہر انتظامیہ میں جاری ہونا ضروری ہے۔امیر سے روزمرہ کے کاموں میں یہ تعلق ہونا چاہئے اور جلسے کی انتظامیہ میں تمام منتظمین کا خواہ وہ بڑے عہدہ پر ہوں یا چھوٹے عہدہ پر ہوں اپنے مرکزی افسر سے ویسا ہی رابطہ ہونا چاہئے۔بعض دفعہ مرکزی افسر کو مجبوراً ڈانٹنا بھی پڑتا ہے۔معمولی تعزیری کارروائیاں بھی کرنی پڑتی ہیں مگر دل کا رشتہ ایسے تعلقات کو سنبھالے رکھتا ہے۔ماں باپ بھی تو ڈانٹتے ہیں، اس کے نتیجہ میں بچے باغی ہو کر منہ پھیر کر دوسری طرف تو نہیں چلے جایا کرتے ، گستاخ تو نہیں ہو جاتے لیکن غیر ڈانٹ کر دیکھے تو پھر وہی بے ادب بچے دیکھیں اس کو کیا مزہ چکھاتے ہیں۔استاد کی بات بھی بعض دفعہ اسی لئے نہیں مانتے کہ انتظامی رشتہ ہے قلبی رشتہ نہیں۔تو خدا تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو ایک زندہ خاندانی رشتوں میں باندھا ہوا ہے جو ذہن سے بھی تعلق رکھتے ہیں ، قلب سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔پس اپنے افسروں سے محض اطاعت کا سلوک نہ کریں بلکہ محبت کا سلوک کریں، ادب کا سلوک کریں اور اگر ہر افسر کے دل میں یہ یقین ہو جائے کہ میرے تمام ماتحتوں کا مجھ سے ذہنی اور قلبی تعلق بہت مضبوط ہے تو ناممکن ہے کہ ایسا افسر ہر وقت ان کی دلداری میں مصروف نہ رہے۔وہ ان کے ناز بھی اٹھاتا ہے اور اگر کبھی سختی کرتا ہے تو سخت مجبوری کی حالت میں اور ایسی صورت میں جس پر سختی کی جاتی ہے اس کا حق ہے فرض ہے بلکہ اس کا مزاج یہ ہونا چاہئے ، اس کی فطرت ثانیہ یہ بنی چاہئے کہ وہ خوشی سے برداشت کرے اور اس بحث میں نہ پڑے کہ میری غلطی اتنی تھی کہ نہیں جتنی بیان کی جاتی ہے اور یاد رکھے کہ غلطی تو ویسے بھی ایک ایسا نازک معاملہ ہے کہ غلطی کرنے والا انسان بسا اوقات اپنی غلطی کا شعور ہی نہیں رکھتا اور اپنے دفاع کا ایسا مادہ انسان میں پایا جاتا ہے کہ غلطی کر کے وہ غلطی دکھائی ہی نہیں دیتی بلکہ اس کے خلاف اگر کوئی نشاندہی کرے تو دل میں بڑا سخت غصہ پیدا ہوتا ہے، طبیعت اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے، انسان ضد کرتا ہے کہ اس